
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu Islamic devotional kalam circulated under the Nasheed Club name. The phrase “Dil-e Muztar Huwa Kis Qadar” refers to the heart becoming deeply distressed or restless, but reliable public credits for the underlying poet, melody, performer, and production were not identified.
← Browse

AI-Enriched54%
Genre
Story & Cultural Context
This is an Urdu Islamic devotional kalam circulated under the Nasheed Club name. The phrase “Dil-e Muztar Huwa Kis Qadar” refers to the heart becoming deeply distressed or restless, but reliable…
Titles in Other Languages
العربيةدلِ مضطر ہوا کس قدر
EnglishHow Distressed the Heart Has Become
Lyrics
یا اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ یا اللہ دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے قرار آئے بھلا کیوں کر تیرے در سے جدا ہو کر سکوں قلب و جگر مجھ کو ملے تیری عطاؤں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے بنا خوگر گناہوں کا ہر ایک پل ہے خطا میرا میرا دامن میرے مولا ہوا ہے پرجفاؤں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے میں جو بھی ہوں مگر مولا تیرے در کا ہی مانگتا ہوں ملے مجھ کو اماں ہر دم بھٹکتی سب بلاؤں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے بنا مایوس تھا لیکن لا تک نہ تو پڑا جب سے بنی امید ہے اب تو مجھے تیری عطاؤں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے تیرے محبوب بندے ہیں حشر میں بے خطر ہوں گے ملے مجھ کو بھیک ٹکڑا تیری رحمت کی چھاؤں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے بڑا غمناک منظر ہو غم حشر میں میرے مولا چلوں نہ سر کے بل اس دن چلا آؤں میں پاؤں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے مجھے محشر کی زلط سے بچانا یا الہی تو رہوں معمون میں اس دن تیری سب سزاوں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے میرے دل کو جھکا لے تو بس اپنی ہی طرف مولا نہ جانے کب پھسل جاؤں میں اپنی ہی اداؤں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے خدا روٹھا ہوا ہے معاویہ اب تو صدر جا تب ہی تو اب جدا ہو گیا اثر تیری دعاوں سے دلِ مزتر ہوا کس قدر فدا اپنے گناہوں سے نہ جانے کب ملے گا مفر مجھے اپنی خطاؤں سے