
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2023Type: nasheed
Story & Cultural Context
A devotional Urdu naat reflecting on the scene of the Day of Judgment (Hashr) and the spiritual significance of accountability in the Hereafter. The available title identifies it as a 2023 release from Nasheed Club, but does not provide verified songwriter, performer, or production credits.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
A devotional Urdu naat reflecting on the scene of the Day of Judgment (Hashr) and the spiritual significance of accountability in the Hereafter. The available title identifies it as a 2023 release…
Titles in Other Languages
العربيةمنظر الحشر
EnglishThe Scene of the Day of Judgment
Lyrics
شفيع امم تم پہ لاکھوں سلام تاجدار حرم تم پہ لاکھوں سلام مرحبا ہاں یہ اس دن کا تذکرہ ہے کہ جب بھائی بھاگیں گے دیکھنا بھائیوں ماں کی ممتہ تو باپ کی شفقت باپ بن کر اڑے گی یوں جیسے وہ کُوارے تھے گزری دنیا میں بیوی بچے بھی اجنبی ہوں گے نو انسان حواس کھو دے گی سب تمنا لیے پھریں گے کہیں کوئی کاندھا ملے سہارے کو ہر طرف شور ہوگا ہائے میں صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی ایسے میں ایک صدا پکارے گی جیسے تھے جیسے ہو چلے آؤ گٹھریاں رکھ دو اپنے پہلو میں تولنے دو کہ تولنے والے اپنے حصے کا کام کر لے ابھی اپنے ساماں میں دیکھ لو اتنا کوئی ذرہ نہ شرک کا ہو کہیں رب کی غیرت پہ میں ہوا زخمی میرے زخموں کی لاج رکھے گا صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی دیکھ لو غور سے کہ گٹھری میں کوئی حق تو نہیں کسی کا یہاں جس کا ہوگا اسی سے پوچھیں گے کسی معصوم کا لہو تو نہیں خون آلود تو نہیں گٹھری قتل نا حق کی کچھ نہیں بفشے صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی میں نے جو دین تم پہ چھوڑا تھا کیا وہی ساتھ آج لائے ہو یا نبی بن کے اس سے کھیلے تھے گر نبی بن کے اس سے کھیلے تھے میری امت سے تم نہیں ہو اگر دین اپنی رضا کلاے ہو جاؤ ڈھونڈو مسیل ماں کو کہیں جاؤ دیکھو یہی کہیں ہوگا صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی باقی جو خوٹ ہے عبادت کا باقی جو نیتوں کی کالک ہے باقی جو سوستیاں ہے چھوٹی بڑی باقی جو کچھ بھی ہے وہ رہنے دو دیکھو میں جا رہا ہوں سجدے میں اس کا وعدہ ہے وہ سنے گا میری سر اٹھاؤں گا اس گھڑی میں بھی جب تلک مان وہ نہیں جاتا ایک بھی جب تلک رہے گا یہاں امتی امتی پکاروں گا وہ بڑا لاج رکھنے والا ہے میں اسے دیکھنا منا لوں گا میں اسے دیکھنا منا لوں گا صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی صلع علیٰ علیٰ شافع صلع علیٰ علیٰ الہادی