Skip to main content
Behti Hui Aankhen cover art

Behti Hui Aankhen

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 3:06

Genre: nasheed, ilahiType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be a short Urdu Islamic kalam presented as an emotionally expressive nasheed. The title refers to flowing or tearful eyes, suggesting a devotional theme of spiritual emotion and repentance, but no verified background or attribution was found.

← Browse
Behti Hui Aankhen

Behti Hui Aankhen

AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

This appears to be a short Urdu Islamic kalam presented as an emotionally expressive nasheed. The title refers to flowing or tearful eyes, suggesting a devotional theme of spiritual emotion and…

Titles in Other Languages

العربيةبہتی ہوئی آنکھیں
EnglishFlowing Eyes

Lyrics

میں نے بہتی ہوئی آنکھوں میں علم دیکھا ہے میں نے بکتا ہوا نوٹوں پہ قلم دیکھا ہے میں نے بہتی ہوئی آنکھوں میں علم دیکھا ہے میں نے بکتا ہوا نوٹوں پہ قلم دیکھا ہے میں نے دیکھا ہے اپنے دیس کے سرداروں کو ان کی بہتی ہوئی آنکھوں کو تو کم دیکھا ہے ہر ایک سمت جو غربت نے ہے دورہ ڈالا بھوکے لاچار پہ بھی ظلم و ستم دیکھا ہے آنکھ بہتی ہے یہاں کس کی محبت کے لیے ہاں دعوتت کے لیے آنکھ کو غم دیکھا ہے کہیں اولاد بھی غائب ہیں پرے اپنوں سے روتی ماںوں کے بھی آنکھوں میں زخم دیکھا ہے کہیں بہتی ہوئی چھت واپ نگل جاتی ہے کہیں رستوں پہ انہیں ہوتے ختم دیکھا ہے شہر کا شہر تو روشن ہی صدا ہوتا ہے دل کی دنیا کو یہاں ہوتے بسن دیکھا ہے کہیں انجان لٹیروں نے بہت لوٹا ہے کہیں لیتے ہوئے دینار ہدم دیکھا ہے ایسے بے باک ہیں مردار ہیں پج مردہ ہیں ان کی آنکھوں میں زلالت کا علم دیکھا ہے میرے اس دیس میں ماں کے لیے انصاف نہیں روتی بہنوں کے لیے ایک بھی دن صاف نہیں کبھی غیروں سے نظر تم ذرا ہٹاؤ تو کبھی اپنوں کو منانے کے لیے جاؤ تو کوئی کہتا ہے یہاں آنکھ کو تم کم کر لو زبان چپ ہو شکایت ذرا سی کم کر لو سنو نفرت کو پرے رکھ کے دل نرم کر لو اپنے جھگڑوں کو فسادات کو تم ختم کر لو سنو یہ عرض ہے ساکی سبھی لٹانا تم جو بھی ناراض ہوں رب کے لیے انہیں نہ تم