Skip to main content
Usey Hussain Kehtay Hen cover art

Usey Hussain Kehtay Hen

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 5:45

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2023Type: nasheed

Story & Cultural Context

This Urdu naat, titled “Usey Hussain Kehtay Hen,” praises and reflects on the spiritual stature of Husayn ibn Ali. It is presented as a 2023 Nasheed Club performance featuring Jalabeeb Qadri, but publicly available metadata does not reliably identify the lyricist, composer, or musical arrangement.

← Browse
Usey Hussain Kehtay Hen

Usey Hussain Kehtay Hen

Nasheeds 5:45 2023
AI-Enriched95%

Story & Cultural Context

This Urdu naat, titled “Usey Hussain Kehtay Hen,” praises and reflects on the spiritual stature of Husayn ibn Ali. It is presented as a 2023 Nasheed Club performance featuring Jalabeeb Qadri, but…

Titles in Other Languages

العربيةاُسے حسین کہتے ہیں
EnglishThey Call Him Hussain

Lyrics

مولانا حسین مولانا حسین
جو قائدِ عظیم ہیں جو رہبرِ فہیم ہیں
جو عالمِ متین ہیں جو فطرتاً سلیم ہیں
جو کوہِ بدو مزاج میں حلیم ہیں کریم ہیں
خدا کی جس پہ رحمتیں بہشت میں مقیم ہیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
بٹے تو حسبِ یوں بٹے کے پھر بھلے بدن کٹے
لہوں میں بھیگتے ہوئے زبان پہ لگزہاں کٹے
وفا کی داستان لکھے عظیمتوں پہ مر مٹے
جنوتی منزلوں پہ چل کے پھر کبھی بھی نہ ہٹے
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
ابو بکر کا جلال لفت عمر سے اس کی نصبتیں
نبی کا وہ نماز ہے غنی سے اس کی قربتیں
علی کے وہ شچے ہیں آیشہ سے الفتیں
علی کے پیک میں پارسہ کی ہر کسی سے چاہتیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں آٹا ہوا
تمام جسم نازنی شدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون زی و قار ہے بلا کا شاہ سمار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقین حسین ہے نبی کا نور آئین ہے
حسین تو حسین ہے حسین تو حسین ہے
بپا سبھاں نے اہل بھی وراستی کا کر جمہ
وہ اہل بیت کا حمیث وہ سرگرش سے پوچھکا
کہ فتح میں کوبیت ہوئی حسین تو ہے جاوے دا
حسین تیرے خون سے منافقی ہوئے آیا
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
زیبنگ کی ظلمت صیرت حسین کی مثال ہے
زلالتوں کے شہر میں حسین حفظال ہے
غزاؤں میں بہار ہے دروں پہ زوال ہے
حسین کی پریت سے امین مالا مال ہے
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
اپنی حتم نبی بے زمانہ حسین کا
گرچے لہوں میں رنگی ہے فانا حسین کا
وہ شیر ابو بکر پہ نازا رسول ہے
سن لو ابو بکر بھی ہے نانا حسین کا
زہرہ کے گھر کا پھول و علی کا ہے وہ جگر
دنیا میں سب سے آلہ گھرانہ حسین کا
سبط رسول نانا نے پیارا لبف دیا
سردار انبیاء کا ہے نانا حسین کا
یاروں سے ان کی یاری ہے ثابت یقین ہے
ہر ایک صحابی سے حیانہ حسین کا
کربل میں کٹ کے اہل وفا نے کہا سہر
رشتہ بہت ہم سے پرانا حسین کا
عظیمتوں کا یہ سفر روادوا روادوا
لہوں میں بھیگتے بدن تو مقتلو میں کاروا
وہی ہے ٹوپیوں کمر وہی حسین کا بیان
نفاق کے اروج میں تو شاکر اس کا ناتفا
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
حسین حسین کہتے ہیں حسین حسین کہتے ہیں
مولانا حسین مولانا حسین