Skip to main content
Kaisa Deedar Ka Alam cover art

Kaisa Deedar Ka Alam

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 8:15

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2023Type: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu naat centered on the awe and spiritual beauty of beholding the Prophet Muhammad. The available title-level metadata identifies it as a 2023 devotional performance by Nasheed Club, but does not provide verified authorship or production credits.

← Browse
Kaisa Deedar Ka Alam

Kaisa Deedar Ka Alam

Nasheeds 8:15 2023
AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

An Urdu naat centered on the awe and spiritual beauty of beholding the Prophet Muhammad. The available title-level metadata identifies it as a 2023 devotional performance by Nasheed Club, but does not…

Titles in Other Languages

العربيةکیسا دیدار کا عالم
EnglishWhat an Exalted Scene of Beholding

Lyrics

مصطفی مصطفی مصطفی مصطفی
صلی علی نبینا صلی علی محمد صلی علی نبینا صلی علی محمد
جسے دیدار کا عالم جیسے کلیوں کا تفسم جیسے چڑیوں کا ترنم جیسے بحرین کا سنگم
جس ملا تا وہ سمہرا مثل تاہا سا ہے چہرہ کوئی آسی نموزم میں کوئی قرآن ہے سارا
چشم حیرت زدہ ہے کیسا رب نے ہے بنایا نور کے موتیوں سے بات نو ظاہر ہے سجایا
زلف کھلتے ہوئے گلزار گلے لال کی تصویر کبھی لما کبھی جمع کبھی وفرا کی ہے تابیر
سرمگی آنکھ جھکی نظر قدو خال کیا کہنا شب و دن خوف خدا سے کہا جا رہی ترا بہنا
جسے دیکھیں تیری نظریں خاک سے مہک ہو جائیں کھلے گلزار ہو جائیں نظریں شفقت کوئی پائیں
خوبصورت گنی داڑی اٹھی ہوئی ناک پیارے سی سفید و سرخی مائل رنگ ہر ایک عضو جمالی
مثل یاقوت و سرئیہ لب و دنبان کا عالم تسرہ سیب کے امبر ہو چپا قطرہ شبنم
صف گئی دم دل زمزم مصد صدر مجسم گنشینی کبھی زخموں کے لیے راحت و مرہم
انگلیاں مظہر قدرت دکھائیں موجزے کیسے کبھی چشموں کی روانی کبھی مہتاب کے پرسے
کالی کملی کا تصور جیسے سورج کا نکلنا خفتگو کا ہے تخیل جیسے نسری کا مہکنا
گرمیاں چال سے چلنا سرکی دستار اماما مطنسینا ہے برابر جیسے خاتم پے نگینا
مطنسینا ہے برابر جیسے خاتم پے نگینا
سلی علا نبی نام سلی علا محمد مصطفی مصطفی
سیرت مصطفی کیا ہے سنائی جس کی خدائی نہ کوئی آپ کے جیسا کوئی تمثیل نہ پائی
آپ اخلاق میں آلا ارض و افلاق میں آلا آپ تصدیق و تصور میں ہے ادراک میں آلا
دیکھ گئے خلق کو تیرے دشمنوں نے پڑے کلمے عرش پہ رب نے بلائیا چلے محبوب سے ملنے سہ کے کتنے ہی مظالم
چلے دشمن کو دعا دے کٹ کر فاقے میں دن رات وہ روکو کلا دے
جس کی تعمیل امانت کے گوا اپنے پرائے جس کی تذکیر و طریقت آج تک مہکتی جائے
تیری تابانیاں سارے عجم و عرب میں پھیلی تیری رحمت کی گھٹائیں ساری دنیا پہ چھائی
تیرے اکمام نبی ہونے کی ہے قرآن میں گواہی تیرے دشمن کے مقابل میرا اللہ ہے دفاعی
ہمیں چلنا ہمیں کھانا ہمیں پینا بھی سکھایا کیسے انسان کو انسان سا جینا بھی سکھایا
تیرے ہی نور کو رب نے سب سے اول ہے بنایا سب سے آخر میں آ کر آپ نے دنیا کو سجایا
سارے اکوان کی نظریں ہمارے مصطفیٰ پر ہیں جملہ اوصاف تیرے عظمتوں کی ممتحہ پر ہیں
آپ ہی امی لقب بھی حاشمی مطلبی ہیں مصطفیٰ مشتبتہہ مضریہ عربی ہیں
دسترس میں ہے ملا کیا کیسے الفاظ لاؤں میں خس مرا بس تو یہی تھا ایک کترہ اٹھاؤں میں
خس مرا بس تو یہی تھا ایک کترہ اٹھاؤں میں
صلی علی نبی نام صلی علی محمد مصطفیٰ مصطفیٰ
پائی جس نے تیری نسبت کیسے کیا بن کے دکھائے کوئی بو بکر و مر حیدر و عثمان کے لائے
تیری نسبت سے نوازے جنتوں کے ہیں شہنشاہ تیری اصواج کو رب نے کیسا رتبہ ہے دلائیا
تیرے قدموں کے غلامہ ہٹے جنتوں میں ہے راحتیں رحمتیں ساری تو تیری سنتوں میں ہے
تیرا ایمان پہ جس نے کبھی دیدار کیا تھا اس کو رزی اللہ کا رب سے کیسا انوان ملا تھا
چولے جو خاک قدم آپ کے سرما اے چشم ہیں سر کی دستار سمجھتے ہیں جو نالے نے قدم ہیں
میری تقدیر میں تھے با متو مدفن کی حسورت تیری چادر کا دو گز کفرن ہو پھر کیا ہے ضرورت
دیکھا یوسف کو جنہوں نے انگلیاں اپنی گواہین دیکھنے والوں نے تجھ کو اپنی گردن بھی کٹائیں
میرے مولا مجھے آقا کا وفادار بنا دے بندگی تیری کرو میں ان کا دلدار بنا دے
رات و دن میرے گزر جائیں خدا دین پہ تیرے تیری خاطر ہو مقیمی تیری خاطر لگے پیرے
چار محتے ہو زبان ذکر سے تیرے میرے آقا دل میں تسکین کی ہو رب کی طرف سے مجھے ملکہ
چل کے سنت پہ ملے آپ کی نسبتوں مجھے ہر دم تیری رحمت تیری قربت عبدی ہو میرے ہمدم
میں جیوں زندگی ساری اپنے محبوب کی خاطر میرا مرنا بھی ہو کاتب نفس مرغوب کی خاطر
میرا مرنا بھی ہو کاتب نفس مرغوب کی خاطر
سلی علا نبی نام سلی علا محمد مصطفی مصطفی
پائی جس نے تیری نسبت کیسے کیا بن کے دکھائے کوئی بھو بکر و مر حیدر و عثمان کے لائے
تیری نسبت سے نوازے جنتوں کے ہیں شہنشاہ تیری اصواج کو رب نے کیسا رتبہ ہے دلائیا
تیرے قدموں کے غلاما ہٹے جنتوں میں ہے راحتیں رحمتیں ساری تو تیری سنتوں میں ہے
تیرا ایمان پہ جس نے کبھی دیدار کیا تھا اس کو رزی اللہ کا رب سے کیسا انوان ملا تھا
چولے جو خاک قدم آپ کے سرما اے چشم ہے سر کی دستار سمجھتے ہیں جو نالین قدم ہے
میری تقدیر میں تھے با متو مدفن کی حسورت تیری چادر کا دو گز کفرن ہو پھر کیا ہے ضرورت
دیکھا یوسف کو جنہوں نے انگلیاں اپنی گواہین دیکھنے والوں نے تجھ کو اپنی گردن بھی کٹائیں
میرے مولا مجھے آقا کا وفادار بنا دے بندگی تیری کرو میں ان کا دلدار بنا دے
رات و دن میرے گزر جائیں خدا دین پہ تیرے تیری خاطر ہو مقیمی تیری خاطر لگے پیرے
چار محتے ہو زبان ذکر سے تیرے میرے آقا دل میں تسکین کی ہو رب کی طرف سے مجھے ملکہ
چل کے سنت پہ ملے آپ کی نسبتوں مجھے ہر دم تیری رحمت تیری قربت عبدی ہو میرے ہمدم
میں جیوں زندگی ساری اپنے محبوب کی خاطر میرا مرنا بھی ہو کاتب نفس مرغوب کی خاطر
میرا مرنا بھی ہو کاتب نفس مرغوب کی خاطر
سلی علی نبی نام سلی علی محمد مصطفیٰ مصطفیٰ