Skip to main content
Dard E Dil cover art

Dard E Dil

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:55

Genre: nasheed, ilahiType: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu devotional kalam presented under the title “Dard E Dil,” meaning “Pain of the Heart.” Its wording suggests an emotionally reflective religious performance, but verified background, credits, and production details are unavailable.

← Browse
Dard E Dil

Dard E Dil

AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

An Urdu devotional kalam presented under the title “Dard E Dil,” meaning “Pain of the Heart.” Its wording suggests an emotionally reflective religious performance, but verified background, credits,…

Titles in Other Languages

EnglishHeart Touching Kalam | Pain of the Heart

Lyrics

درد دل درد دل درد دل دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج آنکھوں سے رواں اشک میری قطرات میرے ہیں اتراف میں پھیلے ہوئے خطرات میرے ہیں دنیا کے غموں کا بھی میرے قلب میں ہے غم اسرار کی بھی آفات کر رکھتا ہے یہ دل غم درد دل درد دل درد دل دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج دنیا کے جو آفات ہیں وقتی وہ سب ہی ہیں میں قلب کو سمجھاتا ہوں سنتا ہی نہیں ہے غیران ہوں میں توفاں کے سفینے میں گھراب ہوں میں رب سے کہوں کیسے میں نظروں میں گراب ہوں دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج ایک سمت ہے میرے دنیا کے جھمیلے ایک سمت مجھے موت پساغے کو دھکیلے ایک سمت مجھے دین کا جھنڈا ہے اٹھانا ایک سمت مجھے قوم کو سوتی ہے جگانا درد دل درد دل درد دل دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج امت یہ گناہوں میں پھسی ہے میرے آقا زلت کی یہ دلدل میں دھسی ہے میرے آقا نظروں سے خدا کی بھی کھری ہے میرے آقا خونخار درندوں میں کھری ہے میرے آقا دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج اے کاش کے لوٹائے وہی مال زمانہ اقبال سنا کر گئے جس کا وہ فسانہ مولا میرے امت کو بلندی پہ گما کی یہ بھولی ہے تجھ کو اسے دولت دے فہاں کی درد دل درد دل درد دل مولا دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج رحمت دے اسے حلم دے اسرار دے مولا اپنا ہو بھی نبی کا بھی اسے پیار دے مولا پرجم جو تیرے دین کا عالم میں پھیرا ہے خالد سے وہ زرار سے انسار دے مولا دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج بے بس ہوں میرا کچھ بھی یہاں بس نہیں چلتا ہاؤسی ہوں میں ناہل ہوں کچھ بس نہیں چلتا تو مانگ معافی کے کلیب اہل نہیں تو آقا کی جو سنت کی ہے وہ چھوڑا وہا دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج دل درد سے معمور غمغن فضا آج اس درد کو کرتا ہوں میں منظور میں صدا آج درد دل درد دل درد دل مولا