Skip to main content
Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho cover art

Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 7:26

Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu emotional devotional nasheed titled “Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho,” published under the Nasheed Club name. Publicly available metadata identifies the performance and duration but does not provide reliably verified songwriter, composer, arrangement, or production credits.

← Browse
Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho

Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho

AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu emotional devotional nasheed titled “Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho,” published under the Nasheed Club name. Publicly available metadata identifies the performance and…

Titles in Other Languages

العربيةتمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
EnglishWhether You Remember or Not

Lyrics

تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
کبھی تو بھی تھا میرا مہربان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تیری لطف خاص نے جو دیا
تیری یاد نے جو تا کیا
ہمیں مستقل غم جاویدہ
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
کبھی تو بھی تھا میرا مہربان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ جو شور لطف سخن رہا
وہ جو زور لطف بیان رہا
وہ جو شور لطف سخن رہا
وہ جو زور لطف بیان رہا
میرے ہم سخن میرے ہم زبان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
جو تیرے لیے میرے دل میں تھا
جو میرے لیے تیرے دل میں تھا
جو تیرے لیے میرے دل میں تھا
جو میرے لیے تیرے دل میں تھا
مجھے یاد ہے وہ غم نیہا
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
کبھی تو بھی تھا میرا مہربان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تیری دوستی پہ میرا یقین
مجھے یاد ہے میرے ہم نشید
تیری دوستی پہ میرا یقین
مجھے یاد ہے میرے ہم نشید
میری دوستی پہ تیرا گھمہ
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ کرمشیاری دشمنہ
وہ ستم ترازی دوستہ
وہ کرمشیاری دشمنہ
وہ ستم ترازی دوستہ
میرے نکتہ رس میرے نکتہ دا
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
کبھی تو بھی تھا میرا مہربان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ جو شاخ گل پہ تھا آشیاں
جو تھا وجہ نازش گل سیتا
وہ جو شاخ گل پہ تھا آشیاں
جو تھا وجہ نازش گل سیتا
گری جس پہ برکش رفشاں
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
میرے دل کے جذبائے گرم میں
میرے دل کے گوشائے نرم میں
میرے دل کے جذبائے گرم میں
میرے دل کے گوشائے نرم میں
تھا تیرا مقام کہاں کہاں
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
کبھی تو بھی تھا میرا مہربان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
اسے مانتا ہوں میں مہربان
ہے تیرے رفیق بہت یہاں
کبھی میں بھی تھا تیرا راز دا
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
یہ جو عرش شکوہ ترازو ہے
جسے ہر زگوئے پہ ناز ہے
یہ جو عرش شکوہ ترازو ہے
جسے ہر زگوئے پہ ناز ہے
یہ وہی ہے شاعر خوش بیان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
وہ وفاؤں مہر کی داستان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
کبھی تو بھی تھا میرا مہربان
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو