
Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu emotional devotional nasheed titled “Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho,” published under the Nasheed Club name. Publicly available metadata identifies the performance and duration but does not provide reliably verified songwriter, composer, arrangement, or production credits.
← Browse

AI-Enriched70%
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu emotional devotional nasheed titled “Tumhen Yaad Ho Ke Na Yaad Ho,” published under the Nasheed Club name. Publicly available metadata identifies the performance and…
Titles in Other Languages
العربيةتمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
EnglishWhether You Remember or Not
Lyrics
تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو کبھی تو بھی تھا میرا مہربان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تیری لطف خاص نے جو دیا تیری یاد نے جو تا کیا ہمیں مستقل غم جاویدہ تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو کبھی تو بھی تھا میرا مہربان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ جو شور لطف سخن رہا وہ جو زور لطف بیان رہا وہ جو شور لطف سخن رہا وہ جو زور لطف بیان رہا میرے ہم سخن میرے ہم زبان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو جو تیرے لیے میرے دل میں تھا جو میرے لیے تیرے دل میں تھا جو تیرے لیے میرے دل میں تھا جو میرے لیے تیرے دل میں تھا مجھے یاد ہے وہ غم نیہا تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو کبھی تو بھی تھا میرا مہربان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تیری دوستی پہ میرا یقین مجھے یاد ہے میرے ہم نشید تیری دوستی پہ میرا یقین مجھے یاد ہے میرے ہم نشید میری دوستی پہ تیرا گھمہ تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ کرمشیاری دشمنہ وہ ستم ترازی دوستہ وہ کرمشیاری دشمنہ وہ ستم ترازی دوستہ میرے نکتہ رس میرے نکتہ دا تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو کبھی تو بھی تھا میرا مہربان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ جو شاخ گل پہ تھا آشیاں جو تھا وجہ نازش گل سیتا وہ جو شاخ گل پہ تھا آشیاں جو تھا وجہ نازش گل سیتا گری جس پہ برکش رفشاں تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو میرے دل کے جذبائے گرم میں میرے دل کے گوشائے نرم میں میرے دل کے جذبائے گرم میں میرے دل کے گوشائے نرم میں تھا تیرا مقام کہاں کہاں تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو کبھی تو بھی تھا میرا مہربان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو اسے مانتا ہوں میں مہربان ہے تیرے رفیق بہت یہاں کبھی میں بھی تھا تیرا راز دا تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو یہ جو عرش شکوہ ترازو ہے جسے ہر زگوئے پہ ناز ہے یہ جو عرش شکوہ ترازو ہے جسے ہر زگوئے پہ ناز ہے یہ وہی ہے شاعر خوش بیان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو وہ وفاؤں مہر کی داستان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو کبھی تو بھی تھا میرا مہربان تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو تجھے یاد ہو کے نہ یاد ہو