Skip to main content
Duniya Ki Berukhi Se cover art

Duniya Ki Berukhi Se

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:10

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu emotional nasheed centered on distress caused by the world's indifference and a reflective appeal for spiritual comfort. Publicly available listing information identifies the track as part of the Nasheed Club catalog but does not provide verified credits, instrumentation, or a documented…

← Browse
Duniya Ki Berukhi Se

Duniya Ki Berukhi Se

AI-Enriched70%
Genre

Story & Cultural Context

An Urdu emotional nasheed centered on distress caused by the world's indifference and a reflective appeal for spiritual comfort. Publicly available listing information identifies the track as part of…

Titles in Other Languages

EnglishBecause of the World's Indifference

Lyrics

يا مولا يا مولا يا مولا يا مولا بے زار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں ان کے خلاف میں نے حق بات ہی تو کی تھی ان کے خلاف میں نے حق بات ہی تو کی تھی شکوا ہے ان کا مجھ سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں محفل کو جن کی میں نے بخشی تھی یار رونک محفل کو جن کی میں نے بخشی تھی یار رونک ان کے لیے بھی اب میں دشوار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں اپنوں کے تھے یہ تانے میں ہوں غریب انسان رب کی اطا سے میں بھی پنکار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں کردار پھر کیوں میرے قصتہ ہے اب تو جملے کردار دل بری کا مینار ہو گیا ہوں آقا کے واسطے سے مانگی دعا جو میں نے جنت کا میں بھی یاروں حق دار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں روزے پہ آپ کے جب میں نے درود بھیجا فیضان مصطفیٰ سے گلزار ہو گیا ہوں مجھ کو ساؤن بتوں نے گھیرا ہے یا الہی در سے میں تیرے ہٹ کر لاچار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں ظلمت کے بعد پیدا ہوتی ہے ایک سہر بھی اس آس پر میں لوگوں بیمار ہو گیا ہوں ظالم سے تھی بغاوت مظلوم کے لیے بز کہتے ہیں پھر بھی مجھ سے غدار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں رہبر تھے جو بھی کل تک گم نام ہو گئی ہے ان کا بھی آج ہاں میں سردار ہو گیا ہوں اے زین میری محنت لائے گی رنگ ایک دن اشعار لکھتے لکھتے اشعار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں دنیا کی بے روحی سے بے زار ہو گیا ہوں اپنوں میں ہو کے پھر بھی اغیار ہو گیا ہوں