
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This is a 2024 Urdu naat performance by Zaheer Usmani, presented through Peace Studio and Nasheed Club. The title, “Wo Shehr e Muhabbat” (“The City of Love”), refers to a sacred city associated with devotional praise, but the available listing does not specify a particular release occasion.
← Browse

AI-Enriched95%
Credits
ProducerPeace Studio
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This is a 2024 Urdu naat performance by Zaheer Usmani, presented through Peace Studio and Nasheed Club. The title, “Wo Shehr e Muhabbat” (“The City of Love”), refers to a sacred city associated with…
Titles in Other Languages
العربيةوہ شہرِ محبت
EnglishThe City of Love
TürkçeMuhabbet Şehri
Lyrics
مدینہ مدینہ آقا کے شہر کو جاؤں یہ جی چاہتا ہے وہی گھر بناوں یہ جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے جہاں میرے آقا نے مسکن بنایا وہی پر ٹھکانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے مدینہ و مکہ کے سرحت پہ کرے ہو ادھر سبز گنبت ہو در ملتظم ہو کبھی جاؤں مکہ کبھی میں مدینہ یہی آنے جانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے جہاں پر برستی ہے رحمت کی بارش جہاں پر ملائک کا ہے آنا جانا جہاں پر لگایا ہے جی کل جہاں نے وہی جی لگانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے سلاموں کے موتی درودوں کا دستہ لیے ساتھ اپنے مدینے کو جاؤں عقیدت کی ساری حدوں کو خدایا انہی پر لٹانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے اچاٹ اپنا دل ہے سبا لے چلو اب فضائے مدینہ کی دیکھوں بہاریں اندھیرے میں گم ہے میرے دل کی دنیا دیا پھر جلانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے جہاں میرے آقا نے مسکن بنایا وہی پر ٹھکانے کو جی چاہتا ہے دیارِ محمد کی چاہت ہے اتنی اسے گھر بنانے کو جی چاہتا ہے