Skip to main content
Ae Fana Anjam Insan cover art

Ae Fana Anjam Insan

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 9:53

Genre: nasheed, naat, hamd, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This Urdu devotional track is presented as a naat connected with Surah Rahman and the theme of human mortality expressed in “Ae Fana Anjam Insan.” Publicly available metadata identifies the performance and title, but does not provide verified credits, production details, or a documented release…

← Browse
Ae Fana Anjam Insan

Ae Fana Anjam Insan

AI-Enriched62%

Story & Cultural Context

This Urdu devotional track is presented as a naat connected with Surah Rahman and the theme of human mortality expressed in “Ae Fana Anjam Insan.” Publicly available metadata identifies the…

Titles in Other Languages

العربيةنعت بر سورۃ الرحمٰن | اے فنا انجام انسان
EnglishNaat on Surah Rahman | O Mortal Human

Lyrics

اے فنا انسان، اے فنا انسان، اے فنا انسان، کب تجھے ہوش آئے گا، اے فنا انجام انسان، کب تجھے ہوش آئے گا، تیرے گیمیں ٹھوک رے آخر کہاں تک کھائے گا، اس تملد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا، کیا کرے گا سامنے سے جب ہجاب اٹھ جائے گا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، یہ سہر کا حسن، یہ سیار کا اور یہ فضا، یہ معتر باغ، یہ سبزہ، یہ کلیاں دل ربا، یہ بیابا، یہ کھلے میدان، یہ تھنڈی ہوا، سوچ تو کیا کیا کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، اے فنا انجام انسان، کب تجھے ہوش آئے گا، تیرے گیمیں ٹھوک رے آخر کہاں تک کھائے گا، اس تملد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا، کیا کرے گا سامنے سے جب ہجاب اٹھ جائے گا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، قلد میںہورے تیری مشتاق ہے آنکھیں اٹھا، نیچی نظریں جن کا زیور جن کی آرائش حیاء، جن و انسان میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا، جن کی باتیں عطر میں ڈوبتی ہوئی جیسے سوا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، اے فنان جام انسان کب تجھے ہوش آئے گا، تیرے گیمیں ٹھوک رے آخر کہاں تک کھائے گا، اے فنان انسان، اے فنان انسان، اے فنان انسان کب تجھے ہوش آئے گا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، اپنے مرکز سے نہ چل موپھر کر بحرِ خدا بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا اور ابتداء، یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا، کسی نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، اے فنان جام انسان کب تجھے ہوش آئے گا، تیرے گیمیں ٹھوک رے آخر کہاں تک کھائے گا، اس تملد کی رویش سے بھی کبھی شرم آئے گا، کیا کرے گا سامنے سے جب ہجاب اٹھ جائے گا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، پھول میں خوشبو بری جنگل کی بوٹی میں دوا، بحر سے موتی نکالیں صاف روشن خوشلما، آگ سے شولہ نکالا عبر سے آب صفا، کیسے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، اے فنان جام انسان کب تجھے ہوش آئے گا، تیرے گیمیں ٹھوک رے آخر کہاں تک کھائے گا، اس تملد کی رویش سے بھی کبھی شرم آئے گا، کیا کرے گا سامنے سے جب ہجاب اٹھ جائے گا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، ہر نفس توفان ہے، ہر سانس ہے ایک زلزلہ، موت کی جانب رواہ ہے زندگی کا فاصلہ، غزے ترب ہر چیز ہے، جنبش میں ہے ارض و سماع، ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی زیادہ، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا، تیرے گیمیں ٹھوک رے آخر کہاں تک کھائے گا، اے فنا انسان، اے فنا انسان، اے فنا انسان کب تجھے ہوش آئے گا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، صبح کے شفا، افتاروں سے برستی ہے زیا، شام کو رنگ شفا، کرتا ہے ایک محشر بفا، رودوی کے چاند سے بہتا ہے دریہ نور کا، جھوم کر برساعت میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا، اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا، تیرے گیمیں تھوکرے آخر کہاں تک کھائے گا، اس تملد کی رمیش سے بھی کبھی شرم آئے گا، کیا کرے گا سامنے سے جب ہجاب اٹھ جائے گا، کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا،