
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be a contemporary Urdu naat centered on the theme expressed by “Ishq Imtihan Leta Hay,” meaning that love tests or trials the devotee. Publicly available metadata identifies the performance as a 2024 release by Nasheed Club, but detailed authorship and production credits could not…
← Browse

AI-Enriched95%
Story & Cultural Context
This appears to be a contemporary Urdu naat centered on the theme expressed by “Ishq Imtihan Leta Hay,” meaning that love tests or trials the devotee. Publicly available metadata identifies the…
Titles in Other Languages
العربيةعشق امتحان لیتا ہے
EnglishLove Tests You
Lyrics
سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے سالے بھول جاؤ گے محمد کی غلامی میں جو ان کو جان لیتا ہے ان پہ جان دیتا ہے سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے کہیں یاسی کہیں طاحا کہیں ملے لکھے لائے انہیں عرش بری بلوا کے رب دیدار کروائے عداؤں پر خدا کو بھی بڑا ہی ناز آتا ہے حسین القاب اللہ کا جنے قرآن دیتا ہے سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے نظر کو با گیا جس کی فقط دیدار آقا کا کوئی پایا نہیں وہ بکر سا دلدار آقا کا محبت کی مثالوں میں یہی تمثیل کافی ہے جو کانٹے سانپ بھی پہرا مگر ہر آن دیتا ہے سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے نئی دلہن کو چھوڑے ہم ذلہ میدان چلتے ہیں چہادت میں مزا تھا کیا فرشتے غسل دیتے ہیں سنا فرمان آقا کا چلا تلوار کو لے کے اشارے پر نبی کے جان کیے قربان دیتا ہے سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے سلگتی آگ پر حبشی غلامی کو نہیں چھوڑے ہزاروں زخم کا کر بھی وفا کا حد نہ توڑے تڑپتی دید کی ان کی غلامی میں سمایا تھا بھلا کر غم ستمگر کے ہسی آسان دیتا ہے سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے سلامی دے رہے پتھر کہیں پر بولتے کنکر شکایت اونٹ کرتے ہیں سبی کے خوگرہ دلبر خوشی سے جان کا نظرانہ محمد کے لیے سن لو بشر جنوں ملائک کیا ہرک ہے بان دیتا ہے سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے