Skip to main content
Ishq Imtihan Leta Hay cover art

Ishq Imtihan Leta Hay

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 7:08

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2024Type: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be a contemporary Urdu naat centered on the theme expressed by “Ishq Imtihan Leta Hay,” meaning that love tests or trials the devotee. Publicly available metadata identifies the performance as a 2024 release by Nasheed Club, but detailed authorship and production credits could not…

← Browse
Ishq Imtihan Leta Hay

Ishq Imtihan Leta Hay

Nasheeds 7:08 2024
AI-Enriched95%

Story & Cultural Context

This appears to be a contemporary Urdu naat centered on the theme expressed by “Ishq Imtihan Leta Hay,” meaning that love tests or trials the devotee. Publicly available metadata identifies the…

Titles in Other Languages

العربيةعشق امتحان لیتا ہے
EnglishLove Tests You

Lyrics

سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے
کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے
سالے بھول جاؤ گے محمد کی غلامی میں
جو ان کو جان لیتا ہے ان پہ جان دیتا ہے
سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے
کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے
کہیں یاسی کہیں طاحا کہیں ملے لکھے لائے
انہیں عرش بری بلوا کے رب دیدار کروائے
عداؤں پر خدا کو بھی بڑا ہی ناز آتا ہے
حسین القاب اللہ کا جنے قرآن دیتا ہے
سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے
کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے
نظر کو با گیا جس کی فقط دیدار آقا کا
کوئی پایا نہیں وہ بکر سا دلدار آقا کا
محبت کی مثالوں میں یہی تمثیل کافی ہے
جو کانٹے سانپ بھی پہرا مگر ہر آن دیتا ہے
سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے
کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے
نئی دلہن کو چھوڑے ہم ذلہ میدان چلتے ہیں
چہادت میں مزا تھا کیا فرشتے غسل دیتے ہیں
سنا فرمان آقا کا چلا تلوار کو لے کے
اشارے پر نبی کے جان کیے قربان دیتا ہے
سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے
کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے
سلگتی آگ پر حبشی غلامی کو نہیں چھوڑے
ہزاروں زخم کا کر بھی وفا کا حد نہ توڑے
تڑپتی دید کی ان کی غلامی میں سمایا تھا
بھلا کر غم ستمگر کے ہسی آسان دیتا ہے
سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے
کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے
سلامی دے رہے پتھر کہیں پر بولتے کنکر
شکایت اونٹ کرتے ہیں سبی کے خوگرہ دلبر
خوشی سے جان کا نظرانہ محمد کے لیے سن لو
بشر جنوں ملائک کیا ہرک ہے بان دیتا ہے
سنا ہے عشق ہو جائے تو امتحان دیتا ہے
کڑی دھوپوں کو سہ کر خود وسائے بان دیتا ہے