
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This is presented as a heart-touching Urdu naat titled “Tajalli,” praising the Prophet Muhammad. Publicly available listing information identifies the 2024 track and its approximately four-minute runtime, but does not provide verified songwriter, composer, arrangement, or production credits.
← Browse

AI-Enriched95%
Story & Cultural Context
This is presented as a heart-touching Urdu naat titled “Tajalli,” praising the Prophet Muhammad. Publicly available listing information identifies the 2024 track and its approximately four-minute…
Titles in Other Languages
العربيةتجلی
Lyrics
وہ چہرہ تھا ان کا اے نور جلی تھا وہ جسم مہتر بھی کیا سندلی تھا وہ آنکھوں میں دورے تھے مذاق والے وہ ہوتوں پہ الفاظ عبلاق والے وہ خمدار باریک عبروں مبارک وہ جنت سے بھی نیچے تیموں مبارک وہ بے داغ بے عیب رکھ سار ان کے اور ان پر فروزہ تھے انوار ان کے وہ بولے تو پھولوں کو مسکان بخشیں وہ دیکھیں تو فطرہ کو ایمان بخشیں وہ عابدہ ہن تھا کے عاب شفا تھا داہن میں خدا جانے کیا زائفہ تھا وہ شادابورم پر پیشانی ان کی نہایت چمکدار پیشانی ان کی نگاہوں میں حیبت کے شمہ فروزہ جب ہی بن نبوہ کے کن فروزہ بہت ہی مثالی تھی ذلف نبی کی ذرا گنگریالی تھی ذلف نبی کی وہ پھولوں سے بڑھ کر ملائم تھا لہجہ ہمیشہ صداقت پہ قائم تھا لہجہ وہ باطل سزا جے میں ڈالے گئے تھے وہ کتنی محبت سے پالے گئے تھے کبھی جب محبت سے وہ دیکھتے تھے تو کتنی مراوت سے وہ دیکھتے تھے بہت عاجزی سے وہ چلتے زمین پر مگر ان کا چل چاہتا عرش بری پر وہ اکمل تھے بات ان کی لیکن مکمل وہ انسان تھے ذات ان کی لیکن مکمل انہیں زندگی کا قرینہ ملا تھا انہیں پیار مکہ مدینہ ملا تھا وہ جب مسکراتے تو سب مسکراتے صحابہ انہی کے سبب مسکراتے تجلی جو انسان کی صورت میں جمکی وہ صورت کے پر راہ کی صورت میں جمکی تجلی جو انسان کی صورت میں جمکی وہ صورت کے پر راہ کی صورت میں جمکی یتیموں فقیروں پہ خیرات کرتے سوالی پہ بخشش کی برسات کرتے نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی وہ احسان زرفوں کے سیقانہ لیتے وہ حدیاتوں لی لیتے صدقانہ لیتے وہ بے محر لوگوں کی پروانہ کرتے کہ جیسا وہ کرتے وہ ایسا نہ کرتے وہ سارے صحیفوں کو بامانہ کرتے وہ قرآن سناتے تو دیوانہ کرتے وہ ظاہری نشانی کرے ان کو زیبا وہ سارا کو پانی کرے ان کو زیبا خدا نے انہیں ایسا راضی کیا تھا کہ ہر سو انہی کا ہی بستس کی راہ تھا انہوں نے ہی مشکل کو آسا بنایا انہوں نے ہی انسا کو انسا بنایا وہ خطرے کو دریا بناتے تھے نادر وہ ذرہ کو سارا بناتے تھے نادر رسول مکلم کی دھمیا جب دیئے دھرتی بھی قائم ان کے سبب تھی محمد کے محبوب کونوں مکہ ہے وہ شانے تو عالم وہ جانے جہاں ہے وہ فخر ملائک وہ نازے رسولہ وہ ہم سب کی چاہت وہ ہم سب کا ارماں خدا نے بنایا تو ایسا بنایا کہ اپنے ہی ہاتھوں سے ان کو سجایا خدیجہ کے شوہر وہ معصوم گوھر میں نوکر صدا ان کے بچوں کا نوکر میں قربان ہٹ پر سراہوں پہ جاؤں میں قربان امت کی ماہوں پہ جاؤں جو فرمان آقا کے تابع رہی تھی جو فقر و رفاقہ پہ دھانے رہی تھی میں آقا کی چاہن محبت کے سکھے میں ہر حستی پاک کی نات کے صدقے