Skip to main content
Gaza Ka Haal Rab Hi Jaanta Hai cover art

Gaza Ka Haal Rab Hi Jaanta Hai

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:54

Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This Urdu devotional lament expresses sorrow and concern for the people of Gaza, framing the suffering of Palestine through religious and emotional language. The available title identifies it as a Palestine naat, but authorship, production details, and the circumstances of release could not be…

← Browse
Gaza Ka Haal Rab Hi Jaanta Hai

Gaza Ka Haal Rab Hi Jaanta Hai

AI-Enriched70%

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

This Urdu devotional lament expresses sorrow and concern for the people of Gaza, framing the suffering of Palestine through religious and emotional language. The available title identifies it as a…

Titles in Other Languages

EnglishEmotional Palestine Naat | Only God Knows Gaza's Condition

Lyrics

غزا غزا
لبیق یا غزا
ربیق یا غزا
لبیق لبیق یا غزا
غزا کا حال غزا
کیا رب ہی جانتا ہے
کیا کوئی سن کے سمجھیں
حق کون مانتا ہے
کبیر کربلا ہے
تمثیل زلزلہ ہے
ہر سو ہی ظالموں کا
بک شور ملوالا ہے
ہے بے بسی کا عالم
رنگینیاں ہیں خون کی
نہ راحتیں ہیں دن میں
نہ نیند ہے سکون کی
سانسوں کی کشم کشمے
جینا ہے مرگ جیسا
اک سوگ سا بابا ہے
منظر بنا ہے کیسا
اک پل کی نا خبر ہے
ہر سانس آخری ہے
آفت ہے چار سو میں
اب خود رہبری ہے
غسا کے رہنے والے
ہے منتظر ہمارے
ہر سو وہ ڈوڑتے ہیں
اپنے لیے سہارے
رشک کر کوئی تو آئے
آ کر ہمیں بچائے
تاریخ مسلمانی
آ کر جدوں کھڑائے
ماں باپ کھو دیے
بھائی بچھڑ چکے ہیں
نہ گھر نہ ہے ٹھکانہ
رشتے اگل چکے ہیں
لبیق کیا غسا
لبیق کیا غسا
لبیق لبیق کیا غسا
لبیق لبیق کیا غسا
پرسن حال آ کر
کوئی نہ پوچھتا ہے
کیسی ہے زندگانی
کوئی نہ سوچتا ہے
لاشے بچی ہیں ہر سو
زخموں سے جسم چھلی
کتنی مسیبتیں اب
ہم کو مزید سہنی
کر دو گبار آتش
چیخوں پکار ہر سو
خیہ میں بھی پانی پانی
رو رو کے خشک آنسو
چشم فلک بھی روئے
ساری زمین روئے
کیوں ظلم ہو رہا ہے
جگ پھر بھی کیوں ہے سوئے
افلاس کا سما ہے
پتھر بندے ہوئے ہیں
سانسوں کا گھوٹ کڑوا
پی کر پڑے ہوئے ہیں
بچے بچھڑ گئے ہیں
ماہیں بھی کھڑ چکی ہیں
درخاک میں ملے ہیں
پبرے بھی بھر چکی ہیں
سڑکوں پہ ہے دپینے
پر یاد کیا کریں ہم
پرواہ کیا کسی کو
جی لیں یا پھر مرے ہم
لپیک یا غزا
لپیک یا غزا
لپیک لپیک یا غزا
لپیک لپیک یا غزا
اٹھ جاؤ اہل ایمان
سوئے رہو گے کب تک
یلغار لے کے آؤ
بند خفور کی ہو بک بک
کیا فائدہ بھمو کا
ایٹم کا شور کیسا
دشمن کا ایک پل میں
کر جاؤ ایسا دیسا
چھوڑو یہ نعرے بازی
جلسوں کا فائدہ
کیا بتلاوں مسلمانوں
لڑنے کا فائدہ
کیا وحدی کے منتظر ہو
یا انتظار ایسا
نہ آئے گا عمر اب
نہ ہی علی کے جیسا
خالد کی تیغ بن کر
دشمن لطارڈنا ہے
حیثر سا شیر بن کر
دشمن پجاڈنا ہے
ایک جسم اہل ایمان
ایک جان مسلمہ ہیں
آزائے جسم کٹ گئے
مسلم مگر کہاں ہیں
کرسی کے چکروں میں
دن رات بیتتے ہیں
میں جیتتا ہوں یا پھر
وہ مجھ سے جیتتے ہیں
پھر سو حوث کی دن میں
دن رات بھاگتے ہیں
دنیا کی سوچ میں گم
سوتے یا جاگتے ہیں
میں شر کے دل خدا کو
بتلاوں کیا کہو گے
کتنا عذاب آخر
ہمت ہے جو سہو گے
قصہ کے چھوٹے بچے
رب سے کرے شکایت
نہ حال تک ہی پوچھا
نہ کی کوئی ہمایت
کفار ہم پہ گولے
برسات رہے تھے جس دم
یہ اول کے رو برو تھے
ہاتھوں میں ہاتھ باہم
ان کو گلے لگایا
دل میں انہیں بسایا
ہم کو نہ پیاس میں تم
نے گھوٹ بھی پلایا
واحدت کا ہے تقاضا
پھیل جاؤ آج باہم
دے روزبر کرو اب
کفار کا تلان تم
ایمان کی ہے طاقت
اللہ کی ہے نصرت
جو ہم نکل پڑے تو
دیکھو گے رب کی قدرت
فتحہ نشان ہمارا
قرآن کی گواہی
ہم دین کے مجاہد
اللہ کے سپاہی
لپیک یا غزا
لپیک یا غزا
لپیک یا غزا
لپیک یا غزا