Skip to main content
Nabi K Dar Ka Adna Gada cover art

Nabi K Dar Ka Adna Gada

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 7:55

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2024Type: nasheed

Story & Cultural Context

A devotional Urdu naat centered on humility and longing for the Prophet Muhammad’s ﷺ blessed presence, expressed through the phrase “Nabi K Dar Ka Adna Gada.” The track is performed by Furqan Wazeer and published under the Nasheed Club name; composer, lyricist, arrangement, and instrumentation…

← Browse
Nabi K Dar Ka Adna Gada

Nabi K Dar Ka Adna Gada

Nasheeds 7:55 2024
AI-Enriched90%

Story & Cultural Context

A devotional Urdu naat centered on humility and longing for the Prophet Muhammad’s ﷺ blessed presence, expressed through the phrase “Nabi K Dar Ka Adna Gada.” The track is performed by Furqan Wazeer…

Titles in Other Languages

العربيةنبی کے در کا ادنیٰ گدا
EnglishThe Humble Beggar at the Prophet’s Door

Lyrics

آقا آقا آقا آقا آقا آقا آقا نبی کے درک میں کاش ایک ادنا گدہ ہوتا ادنا گدہ ہوتا عقیدت کا میرا انداز سب سے ہی جدا ہوتا سب سے ہی جدا ہوتا گزر ہوتا میرے آقا کا جب بتہا کی گلیوں سے گزر ہوتا میرے آقا کا جب بتہا کی گلیوں سے مبارک ان کے قدموں کا فقط میں خاک پا ہوتا خاک پا ہوتا نبی کے درک میں کاش ایک ادنا گدہ ہوتا ادنا گدہ ہوتا عقیدت کا میرا انداز سب سے ہی جدا ہوتا سب سے ہی جدا ہوتا اگر غارِ حیراء کی رہ گزر میں جھانکتا ہوتا میری آنکھوں میں ہر پل آق سے آقا کا بسا ہوتا نبی کے درک میں کاش ایک ادنا گدہ ہوتا ادنا گدہ ہوتا عقیدت کا میرا انداز سب سے ہی جدا ہوتا سب سے ہی جدا ہوتا صحابہ جان آقا پر چھڑکتے تھے ہمیشہ سے صحابہ جان آقا پر چھڑکتے تھے ہمیشہ سے تو میں بھی جنگ کے میدان میں ہر دم جٹا ہوتا نبی کے درک میں کاش ایک ادنا گدہ ہوتا ادنا گدہ ہوتا عقیدت کا میرا انداز سب سے ہی جدا ہوتا سب سے ہی جدا ہوتا میرے محبوب کا جب نام مجھ سے پوچھتا کوئی لبوں سے میرے بس میں محمد ہی ادا ہوتا محمد ہی ادا ہوتا نبی کے درک میں کاش ایک ادنا گدہ ہوتا ادنا گدہ ہوتا عقیدت کا میرا انداز سب سے ہی جدا ہوتا سب سے ہی جدا ہوتا تو میں خود دیکھ لیتا وہ حسین منظر پی آنکھوں سے تو میں خود دیکھ لیتا وہ حسین منظر پی آنکھوں سے جہاں پر بھت شکن کا سب بھوتوں سے سامنا ہوتا بھوتوں سے سامنا ہوتا نبی کے درک میں کاش ایک ادنا گدہ ہوتا ادنا گدہ ہوتا عقیدت کا میرا انداز سب سے ہی جدا ہوتا سب سے ہی جدا ہوتا سہر شہر مدینہ میں برستے تھے جہانور سہر شہر مدینہ میں برستے تھے جہانور تو تن مندھن سے ہر عاشق اسی پر ہی فدا ہوتا اسی پر ہی فدا ہوتا نبی کے درک میں کاش ایک ادنا گدہ ہوتا ادنا گدہ ہوتا عقیدت کا میرا انداز سب سے ہی جدا ہوتا سب سے ہی جدا ہوتا