Skip to main content
Ab Yaad Na Aao Rehne Do cover art

Ab Yaad Na Aao Rehne Do

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 8:23

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu emotional nasheed published under the artist name Nasheed Club. The available listing identifies it as “Ab Yaad Na Aao Rehne Do,” but does not provide verified songwriter, production, or musical-analysis details.

← Browse
Ab Yaad Na Aao Rehne Do

Ab Yaad Na Aao Rehne Do

AI-Enriched54%
Genre

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu emotional nasheed published under the artist name Nasheed Club. The available listing identifies it as “Ab Yaad Na Aao Rehne Do,” but does not provide verified songwriter,…

Titles in Other Languages

EnglishDon’t Come to Mind Anymore, Let It Be

Lyrics

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو

یہ سچ کے سہانے ماضی کے لمحوں کو بھولانا کھیل نہیں
یہ سچ کے بھڑکتے شولوں سے دامن کو چھڑانا کھیل نہیں
رستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیں
آنکھیں نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں
لیکن یہ محبت کے نہمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دو
جو آگ دبی ہے سینے میں انٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دو

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو

جاری ہے وطن کی راہوں میں ہر سلسلاؤں کے فوارے
دکھ درد کی چھوٹیں کھا کھا کر لرزا ہے دلوں کے گہوارے
انگوش پہ لب ہیں شمس و کمر حیران و پریشان ہیں تارے
ہے باد سہر کے جھونکے بھی توفان مسلسل کے دھارے
اب فرصت نہ آؤ نوش کہا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
توفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناو رہنے دو

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو

مانا کے محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھی
یہ امن و سکون سے دور فضاء پیغام سکوں بھی لائی تھی
وہ دور بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھی
خوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھی
لیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
جس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ ہٹا آؤ رہنے دو

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو

اب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کرے
اب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سو توں کو ہوشیار کرے
دنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کرے
جو قوم و وطن کی قدموں پر قربانی دے ایسار کرے
لوڑا دے محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دو
جادو نہ جگاؤ رہنے دو اتنے نہ اٹھاؤ رہنے دو

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو

میزہر حقیقت کی تلخی خوابوں میں چھپاؤں گا کب تک
ھربت کے دہکتے شولوں سے دامن کو بچاؤں گا کب تک
آشوب جہاں کی دیوی سے یوں آنکھ چُراؤں گا کب تک
جس فرض کو پورا کرنا ہے وہ فرض بھُلاؤں گا کب تک
اب تاب نہیں نظارے کی جلوے نہ دکھاؤ رہنے دو
کُلشید محبت کے روح سے پردے نہ اٹھاؤ رہنے دو

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو

ممکن ہے زمانہ رخ بدلے یہ دور حلاقت مٹ جائے
یہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ اہد زلالت مٹ جائے
دولت کے پریبوں کا یہ کبر و نخوت مٹ جائے
برباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائے
اس وقت بنام اہد وفا میں خود بھی تمہیں یاد آؤں گا
موڑ کے ساری دنیا سے الفت کا سبق دور آؤں گا

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زہمت نہ اٹھاؤ رہنے دو