Skip to main content
Na Samaton Main Tapish cover art

Na Samaton Main Tapish

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 5:02

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu nasheed performance published under the artist name Nasheed Club, with the subtitle “Na Samaton Main Tapish.” No reliable public source was identified confirming its composer, lyricist, production details, or a specific occasion of release.

← Browse
Na Samaton Main Tapish

Na Samaton Main Tapish

AI-Enriched85%
Genre

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu nasheed performance published under the artist name Nasheed Club, with the subtitle “Na Samaton Main Tapish.” No reliable public source was identified confirming its…

Lyrics

نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر ابی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
جو تیرے تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
میرے سبر پر کوئی عجر کا میری دوپہر پہ یہ عبر کیوں
مجھے اونے نے دے عذیتیں میری عادتیں نہ خراب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
کہیں آبلو کے بھور بجے کہیں دوب روپ بدن سجے
کبھی دل کو تھلکا مزاج دے کبھی چشم تر کو چناب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
یہ حجوم شہر ستمگرہ نہ سنے گا تیری صدا کبھی
میری حسرتوں کو سخن سنا میری خواہشوں سے حساب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
یہ جلوس فصل بہار ہے تہی دست یار سجا اسے
کوئی عشق پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر