
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu nasheed performance published under the artist name Nasheed Club, with the subtitle “Na Samaton Main Tapish.” No reliable public source was identified confirming its composer, lyricist, production details, or a specific occasion of release.
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu nasheed performance published under the artist name Nasheed Club, with the subtitle “Na Samaton Main Tapish.” No reliable public source was identified confirming its…
Lyrics
نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر ابی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا جو تیرے تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر میرے سبر پر کوئی عجر کا میری دوپہر پہ یہ عبر کیوں مجھے اونے نے دے عذیتیں میری عادتیں نہ خراب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر کہیں آبلو کے بھور بجے کہیں دوب روپ بدن سجے کبھی دل کو تھلکا مزاج دے کبھی چشم تر کو چناب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر یہ حجوم شہر ستمگرہ نہ سنے گا تیری صدا کبھی میری حسرتوں کو سخن سنا میری خواہشوں سے حساب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر یہ جلوس فصل بہار ہے تہی دست یار سجا اسے کوئی عشق پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر نہ سماعتوں میں تپش گلے نہ نظر کو وقت میں عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر