
Genre: nasheed, naat, madih, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu naat expressing emotional distance from and longing for the Prophet Muhammad. The available listing identifies it as a Nasheed Club performance, but does not provide verified songwriter, production, or historical background details.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This is an Urdu naat expressing emotional distance from and longing for the Prophet Muhammad. The available listing identifies it as a Nasheed Club performance, but does not provide verified…
Titles in Other Languages
العربيةحضور سے دور اس قدر ہوں
EnglishI Am This Far Away from the Prophet
Lyrics
مولا میرے مولا مولا میرے مولا مولا مولا میرے مولا مولا میرے قصور میرا فطور میرا حضور سے دور اس قدر ہوں سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں قصور میرا فطور میرا حضور سے دور اس قدر ہوں سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں حضور کی التجائیں دیکھی ہمارے خاطر بلائیں دیکھی سزا کے بدلے جزائیں دیکھی ہر ایک سے اُن کی وفائیں دیکھی خود ہی کو دنیا میں یوں لگایا کہ پھر نہ اس میں وفائیں دیکھی عطا کے بدلے جفائیں دیکھی قدم قدم پر خطائیں دیکھی میں سر تا پاہوں تلاک ہوں بھنلام تو پھر میں کیوں اتنا بے قدر ہوں قصور میرا فطور میرا حضور سے دور اس قدر ہوں سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں قصور میرا فطور میرا حضور سے دور اس قدر ہوں سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں پلک نہ بدلا زمین نہ بدلی نہ چاند صورت ستارے بدلیں وہ خلق و عیش و تمیز و فطرت وہ ناز انگاز سارے بدلیں میری نہ دنیا ہے دی کتابیں اے حال میرے تمہارے بدلیں نہیں ادا کوئی مصطفیٰ سی میرے تو ایک اشارے بدلیں نہ رب کا قرآن حدیث بدلیں رکھوں نہ بدلیں نہ پارے بدلیں میرا عمل میری بھی کوہدارش میرے تخیل ارادے بدلیں حیام کر بیا ہے منظر نہاں سمجھ کر ہواں ڈر ہوں مولانا میرا مولانا سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں قصور میرا فطور میرا حضور سے دور اس قدر ہوں سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں میرے خدا یہ دعا عطا کر محبت مصطفیٰ عطا کر جفا کو چھوڑوں وفا عطا کر غنی سے شرم و حیاء عطا کر میرے عمل میرے ہر ارادے کو صرف اپنی رضا عطا کر احساس جب تک ہے مجھ میں جاری مجھے بس اپنی سنا عطا کر میں دی کا طالب رہوں ہمیشہ صدا یہی تا صدا عطا کر مجھے نہ خود سے ملا ہو کوئی دعا اپنی راہ کی قضا عطا کر قبول کر لے یہی صدا ہے میں منکسر ہوں میں چشم تر ہوں قصور میرا فطور میرا حضور سے دور اس قدر ہوں سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں قصور میرا فطور میرا حضور سے دور اس قدر ہوں سنی نہ رب کی نہ مصطفیٰ کی اسی لیے تو میں درب در ہوں