
Genre: nasheed, naat, madih, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu naat centered on longing to behold the blessed land and presence associated with Mustafa. The available listing identifies it as a devotional performance by Nasheed Club, but does not provide verified credits, production details, or a specific release occasion.
← Browse

AI-Enriched70%
Story & Cultural Context
This is an Urdu naat centered on longing to behold the blessed land and presence associated with Mustafa. The available listing identifies it as a devotional performance by Nasheed Club, but does not…
Titles in Other Languages
العربيةدیارِ مصطفیٰ دیکھوں
EnglishMay I Behold the Land of Mustafa
Lyrics
طیبہ طیبہ طیبہ طیبہ طمعنہ ہے طمعنہ ہے مدینہ دیکھوں طیبہ سانس دل چاہیے چشم نم چاہیے جین کو اب مجھے پس حرم چاہیے پیاس بجھتی نہیں دل سمھالتا نہیں جامِ غم کا یہ بادل سمٹتا نہیں دوریاں ختم ہوں گی یہ کب یا خدا سفر طیبہ کہاو میرا اب یا خدا دیکھ لو میں نبی کا وہ شہر و چمن لے کے کب سے میں بیٹھا ہوں دل میں لگن خواہش نفس پوری ہو جائے میری دور اب یا خدا دل کی ہندری طمعنہ دل کی ہے اب تو دیارِ مصطفیٰ دیکھوں مدینہ کا شہر دیکھوں مدینہ کی فضاء دیکھوں طمعنہ دل کی ہے اب تو دیارِ مصطفیٰ دیکھوں مدینہ کا شہر دیکھوں مدینہ کی فضاء دیکھوں جہاں پر نور کی بارش ملائک کا بسیرہ ہے جہاں پر نور ہے منظر ہر ایک پل میں صویرہ ہے جہاں پر نمتوں کی آسمانوں سے روانی ہے وہاں جا کر میں آنکھوں سے نوازش بے بہا دیکھوں طمعنہ دل کی ہے اب تو دیارِ مصطفیٰ دیکھوں مدینہ کا شہر دیکھوں مدینہ کی فضاء دیکھوں محطر ہے فضاء چار صورہ وقت کی بارش ہے دعا منظور ہو پوری جہاں ہر ایک خواہش ہے وہ جس شہرِ محبت میں میرے آقا کی بستی ہے پہنچ کر اس مقدس شہر کی آباں دیکھوں محطر ہے فضاء چار صورہ وقت کی بارش ہے دعا منظور ہو پوری جہاں ہر ایک خواہش ہے وہ جس شہرِ محبت میں میرے آقا کی بستی ہے محطر ہے فضاء چار صورہ وقت کی آباں دیکھوں مدینہ کا شہر دیکھوں مدینہ کی فضاء دیکھوں مقدر کا ستارہ اب مدینہ پاک لے جائے میری تقدیر میں بطخہ کی بادی کو لکھا جائے مقدر کا ستارہ اب مدینہ پاک لے جائے میری تقدیر میں بطخہ کی بستی کو لکھا جائے دعا اورز ہے یا رب مجھے لے چل مدینہ میں تڑپ ہے جلد اس چاہت کو میں پورا ہوا دیکھوں محطر ہے فضاء چار صورہ وقت کی بارش ہے دعا منظور ہو پوری جہاں ہر ایک خواہش ہے وہ جس شہرِ محبت میں میرے آقا کی بستی ہے محطر ہے فضاء چار صورہ وقت کی آباں دیکھوں مدینہ کا شہر دیکھوں مدینہ کی فضاء دیکھوں جنم سے چاہت دل کی جڑی ان کے مدینہ سے محبت شہرِ آقا کی بساراں کی حسینہ میں نہ بستی ہے کوئی ایسی نہ کوئی شہر ایسا ہے میں دنیا بھر کے شہروں سے شہر جا کر جوتا دیکھوں محطر ہے دل کی ہے اب تو دیارِ مصطفیٰ دیکھوں مدینہ کا شہر دیکھوں مدینہ کی فضاء دیکھوں مدینہ کا شہر دیکھوں مدینہ کی فضاء دیکھوں محطر ہے دل کی ہے اب تو دیارِ مصطفیٰ دیکھوں