
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2025Type: nasheed
Story & Cultural Context
A contemporary Urdu naat centered on intense love and devotion for the Prophet Muhammad and Madina. The available title and duration identify it as an audio performance, but no reliable public credits for the composer, lyricist, arrangement, or production could be verified.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
A contemporary Urdu naat centered on intense love and devotion for the Prophet Muhammad and Madina. The available title and duration identify it as an audio performance, but no reliable public credits…
Titles in Other Languages
EnglishToday, Love Has Reached Its Limit
Lyrics
ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی ان کے در پر گیا ان سے ملنے کو میں پھر کبھی واپسی نہ ہوا اپنے گھر ان کے در پر گیا ان سے ملنے کو میں پھر کبھی واپسی نہ ہوا اپنے گھر ان کی صحبت کا مجھ پر جنو ہو چڑھا ان کی صحبت ہی میری دعا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی خواب میں رات بھر ان کا راستہ تکا پھر بھی درشن نہ ہو پائے ان کے مجھے کیا خبر ان کو مجھ سے شکایت ہو کچھ کیا پتہ مجھ سے اب کیا خطا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی پہلے میں خاک کا ایک ذرہ تھا بس کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا میں کبھی پہلے میں خاک کا ایک ذرہ تھا بس کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا میں کبھی پھر تیری نظر مجھ پر پڑی رحم کی پھر میری زیست یارازیاں ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی اے جنو مجھ کو کچھ تو سہارا تو دے بے سہارا ہوں کچھ روز سے میں یہاں ان سے کیا پیار کر بیٹھا میں اے خزاں زندگی میری بس کیا سے کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی