Skip to main content
Ishq Ki Aaj Inteha Hogai cover art

Ishq Ki Aaj Inteha Hogai

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:08

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2025Type: nasheed

Story & Cultural Context

A contemporary Urdu naat centered on intense love and devotion for the Prophet Muhammad and Madina. The available title and duration identify it as an audio performance, but no reliable public credits for the composer, lyricist, arrangement, or production could be verified.

← Browse
Ishq Ki Aaj Inteha Hogai

Ishq Ki Aaj Inteha Hogai

Nasheeds 6:08 2025
AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

A contemporary Urdu naat centered on intense love and devotion for the Prophet Muhammad and Madina. The available title and duration identify it as an audio performance, but no reliable public credits…

Titles in Other Languages

EnglishToday, Love Has Reached Its Limit

Lyrics

ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی ان کے در پر گیا ان سے ملنے کو میں پھر کبھی واپسی نہ ہوا اپنے گھر ان کے در پر گیا ان سے ملنے کو میں پھر کبھی واپسی نہ ہوا اپنے گھر ان کی صحبت کا مجھ پر جنو ہو چڑھا ان کی صحبت ہی میری دعا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی خواب میں رات بھر ان کا راستہ تکا پھر بھی درشن نہ ہو پائے ان کے مجھے کیا خبر ان کو مجھ سے شکایت ہو کچھ کیا پتہ مجھ سے اب کیا خطا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی پہلے میں خاک کا ایک ذرہ تھا بس کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا میں کبھی پہلے میں خاک کا ایک ذرہ تھا بس کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا کچھ نہ تھا میں کبھی پھر تیری نظر مجھ پر پڑی رحم کی پھر میری زیست یارازیاں ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی اے جنو مجھ کو کچھ تو سہارا تو دے بے سہارا ہوں کچھ روز سے میں یہاں ان سے کیا پیار کر بیٹھا میں اے خزاں زندگی میری بس کیا سے کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی کوئی آ کر سنبھالے دیوانے کو اب بات جو تھی ذرا سی وہ کیا ہو گئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی ہاتھ اٹھے نہیں اور دعا ہوگئی عشق کی آج تو انتہا ہوگئی