
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2025Type: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu devotional manqabat/naat centered on Imam Hussain, using the phrase "Koofay Ka Musafir" (Traveler of Kufa). The title credits Jalabeeb Qadri and presents the track as a contemporary 2025 devotional performance; specific lyrical, compositional, and production credits could not be…
← Browse

AI-Enriched70%
Featured Artists
Jalabeeb Qadri
Story & Cultural Context
This is an Urdu devotional manqabat/naat centered on Imam Hussain, using the phrase "Koofay Ka Musafir" (Traveler of Kufa). The title credits Jalabeeb Qadri and presents the track as a contemporary…
Titles in Other Languages
العربيةمسافرِ کوفہ
EnglishTraveler of Kufa
Lyrics
حسین جس کی صدا لا الہ الا اللہ حسین جس کی ادا لا الہ الا اللہ حسین جس کی دعا لا الہ الا اللہ مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں میں مہماں بنا کر ستایا گیا ہوں میں رویا نہیں ہوں رولایا گیا ہوں خدا جانے کیسی ہے یہ میزبانی بہتر پیا سو کا ہے بند پانی مقدر میں ہے ہو زکو سر کپینا میں پیاسا نہیں ہوں پلایا گیا ہوں مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں نہ نہ نبی ہے ماں سیدہ ہے بابا علی ہے بھائی حسن ہے میرے کوفا والو مراتب تو سمجھو نبی کا نوازہ بنایا گیا ہوں مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا تمام جسم نازنی چدا ہوا گٹا ہوا کہ کون زیواکار ہے بھلا کشاں سوار ہے کہ ہے ہزار قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نورین ہے حسین تو حسین ہے حسین تو حسین ہے اولیکے دل کا چین ہے مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں ارے شمر سمجھو قیامت کا منظر چلا نہ سکو گے گلے پہ یہ خنجر جنہر فراد پہ پہرے ہیں تیرے میں کوسر کا مالک بنایا گیا ہوں ادھر سپاہ شام ہے ہزار انتظام ہے ادھر ہے دشمنانے دی ادھر فقط امام ہے مگر عجیب شان ہے غزب کی آن بان ہے کہ جس طرح اٹھائی ہے دیو بس خدا کا نام ہے یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نورین ہے او سین تو حسین ہے حسین تو حسین ہے او لکھے دل کا چین ہے مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں جھکا تھا جو سر بارگاہِ خدا میں وہی سر قلم ہو گیا کربلا میں جھکا تھا جو سر بارگاہِ خدا میں وہی سر قلم ہو گیا کربلا میں شہادت کی منزل کو پایا ہے میں نے میں مردہ نہیں ہوں جلایا گیا ہوں مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں خیمہ جلایا سامہ بھی لوٹا غنچہ بھی ٹوٹا گلستان بھی چھوٹا بہشتِ بری میں مقابن رہے ہیں میں اجلا نہیں ہوں بسایا گیا ہوں مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں میں مہماں بنا کر ستایا گیا ہوں میں رویا نہیں ہوں رولایا گیا ہوں مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں