Skip to main content
Koofay Ka Musafir cover art

Koofay Ka Musafir

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 7:06

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2025Type: nasheed

Story & Cultural Context

This is an Urdu devotional manqabat/naat centered on Imam Hussain, using the phrase "Koofay Ka Musafir" (Traveler of Kufa). The title credits Jalabeeb Qadri and presents the track as a contemporary 2025 devotional performance; specific lyrical, compositional, and production credits could not be…

← Browse
Koofay Ka Musafir

Koofay Ka Musafir

Nasheeds 7:06 2025
AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

This is an Urdu devotional manqabat/naat centered on Imam Hussain, using the phrase "Koofay Ka Musafir" (Traveler of Kufa). The title credits Jalabeeb Qadri and presents the track as a contemporary…

Titles in Other Languages

العربيةمسافرِ کوفہ
EnglishTraveler of Kufa

Lyrics

حسین جس کی صدا لا الہ الا اللہ
حسین جس کی ادا لا الہ الا اللہ
حسین جس کی دعا لا الہ الا اللہ
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
میں مہماں بنا کر ستایا گیا ہوں
میں رویا نہیں ہوں رولایا گیا ہوں
خدا جانے کیسی ہے یہ میزبانی
بہتر پیا سو کا ہے بند پانی
مقدر میں ہے ہو زکو سر کپینا
میں پیاسا نہیں ہوں پلایا گیا ہوں
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
نہ نہ نبی ہے ماں سیدہ ہے
بابا علی ہے بھائی حسن ہے
میرے کوفا والو مراتب تو سمجھو
نبی کا نوازہ بنایا گیا ہوں
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا
تمام جسم نازنی چدا ہوا گٹا ہوا
کہ کون زیواکار ہے بھلا کشاں سوار ہے
کہ ہے ہزار قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نورین ہے
حسین تو حسین ہے حسین تو حسین ہے
اولیکے دل کا چین ہے
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
ارے شمر سمجھو قیامت کا منظر
چلا نہ سکو گے گلے پہ یہ خنجر
جنہر فراد پہ پہرے ہیں تیرے
میں کوسر کا مالک بنایا گیا ہوں
ادھر سپاہ شام ہے ہزار انتظام ہے
ادھر ہے دشمنانے دی ادھر فقط امام ہے
مگر عجیب شان ہے غزب کی آن بان ہے
کہ جس طرح اٹھائی ہے دیو بس خدا کا نام ہے
یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نورین ہے
او سین تو حسین ہے حسین تو حسین ہے
او لکھے دل کا چین ہے
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
جھکا تھا جو سر بارگاہِ خدا میں
وہی سر قلم ہو گیا کربلا میں
جھکا تھا جو سر بارگاہِ خدا میں
وہی سر قلم ہو گیا کربلا میں
شہادت کی منزل کو پایا ہے میں نے
میں مردہ نہیں ہوں جلایا گیا ہوں
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
خیمہ جلایا سامہ بھی لوٹا
غنچہ بھی ٹوٹا گلستان بھی چھوٹا
بہشتِ بری میں مقابن رہے ہیں
میں اجلا نہیں ہوں بسایا گیا ہوں
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
میں مہماں بنا کر ستایا گیا ہوں
میں رویا نہیں ہوں رولایا گیا ہوں
مجھے کوفا والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں