Skip to main content
Suey Taiba Jaoonga cover art

Suey Taiba Jaoonga

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:04

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2025Type: nasheed

Story & Cultural Context

This Urdu naat expresses a devotional longing to travel to Taiba, a revered name for Medina. The listing presents it as a 2025 performance associated with Zaheer Usmani and distributed through the Nasheed Club channel or catalog.

← Browse
Suey Taiba Jaoonga

Suey Taiba Jaoonga

Nasheeds 6:04 2025
AI-Enriched85%

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

This Urdu naat expresses a devotional longing to travel to Taiba, a revered name for Medina. The listing presents it as a 2025 performance associated with Zaheer Usmani and distributed through the…

Titles in Other Languages

العربيةسوئے طیبہ جاؤں گا
EnglishI Will Go to Taiba

Lyrics

مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
باندوں کا کبھی تو رکھ دے سفر
پھر سوئے مدینہ جاؤں گا
جنت کے نظارے دنیاں میں
تے باں میں دیکھنے آؤں گا
وہاں کی آبادیاں مبارک
وہاں کی تیاریاں مبارک
وہاں کا آرام و نید چھوڑو
وہاں کی بیداریاں مبارک
وہاں چمکتی ہے زندگانی
وہاں مہک جائے گی جوانی
ہوائے تے باں جسے ملی ہے
اسی نے پائی ہے شاد بانی
نظر ہے ڈھوڑے تے آر تے باں
دلوں کے دھڑکن ہزار تے باں
خدا اے دنیا سے تیرے ہائی
دکھا خدا یا بہار تے باں
ہٹے گا ایک دن یہ جاب تے باں
میں چوم لوں گا تراب تے باں
ہزار عیدیں مناؤں گا
میں ہو جائے پورا جو خواب تے باں
تتاروں میں جو ہے خیالی
اسی جگہ کا ہمیں سوالی
وہاں پہ جانا جوہاں میسر
میں چوم لوں گا حرم کی جالی
یہاں ہے دل کو یہی سہارا
کبھی تو ہوگا ہمیں نظارا
دعائیں کرتے رہیں گے ہر دم
دکھائے گا وہ دکھڑا ہمارا
دیدار خدایہ ہو جائے
سلطان مدینہ کے درکہ
آنکھوں کا ترس نہ دور کرو
دکھلا کے مزہ رہ اس گھر کا
بان دوں گا نبی تو رکھ دے سفر
پھر سوہ مدینہ جاؤں گا
جنت کے نظارے دنیاں میں
دے باں میں دیکھنے آؤں گا
زمیں میں تاروں سے ایک سوا ہے
دکھے زمیں جیسے آسما ہے
چمکتے مینا سبز گمبت میں
کیسا لفس سرور جا ہے
دخول ہوگا اگر حرم میں
وجود ہوگا میرا نعم میں
جوار آتا جو ہو بس تیرا
میں ڈوب جاؤں رہم کے یم میں
جو نام خارل جو نام آئے
درود بھیجوں سلام آئے
عدب سے سر کو جھکائے رکھوں
حضور کا جو مقام آئے
درد نبی کی ہزار چاہت
چٹے ابھی تو میری مسافت
جو حاضری کا ملے بہانہ
تکان عمری کی پاؤں راحت
قصد دونگی بی بلک ہو
دموں میں چشمے کی ایک بلک ہو
وہ سر تو کہاں ہو ایک تلہ
تم مگر جدائی کی بھی قصد ہو
سمی کے اطراف کے مقامی بھی
ڈھونڈتے ہیں جہاں غلامی
وہاں گزاروں یہ زندگانی
وہاں کبا جاؤں التزامی
جس مت پینے نازاں ہو جاؤں
تے باں جو سواری لے جائے
تے باں جو سواری لے جائے
دیدار امم کی چوکھٹ پر
کوئی تو آواری لے جائے
بان دوں گا کبھی تو رکھ دے سفر
پھر سوہ مدینہ جاؤں گا
جنت کے نظارے دنیاں میں
دے باں میں دیکھنے آؤں گا
بنا دے یا رب مدینہ مسکن
سوار دے یا خدایہ جیون
تدانے بی کاہی نام لے کر
دھڑکتی جائے یہ دل کی دھڑکن
دے یار محبوب میں بھی جاؤں
جبیر خدا کے لیے جھکاؤں
خیام شب میں کلام رب میں
عباد تو کا حضور پاؤں
ویران کے تے باں میں جی رہا ہوں
گموں کا ساگر میں پی رہا ہوں
سمجھنا آئے کہاں بسیرہ
میں مر رہا ہوں یا جی رہا ہوں
شہر مدینہ میں ہے مدینہ
وہاں کا ایک پل ہزار جینا
کبول ہونا میری دعا بھی
گزار رمضان کا ماہینا
غموں راز کی دوا ہے
فقط مدینہ ہی اب شفاہ ہے
رہائی دے مچھڑتی قفص سے
رہے حال تے باں کی التجاہ ہے
خیال بس کی فضائے تے باں
مقابل غم کی ہوائے تے باں
مجھے ملے آخری تمنا
بسالتت فی خضائے تے باں
دن چار گزاروں تے باں میں
جذبات کی دنیا سمر جائے
جذبات کی دنیا سمر جائے
ہاتھوں میں ہو جالی روزے کی
یہ سانس وہی پہ نکل جائے
باندھوں گا نبی تو رکھ دے سفر
پھر سوہ مدینہ جاؤں گا
جنت کے نظارے دنیاں میں
تے باں میں دیکھنے آؤں گا
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ