Skip to main content
Lakhon Karoron Darood O Salam cover art

Lakhon Karoron Darood O Salam

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 8:31

Genre: nasheed, naat, madih, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

A relaxing Urdu naat centered on sending abundant darood o salam upon the Prophet Muhammad. The available title-level metadata identifies Nasheed Club as the artist, but does not establish the original poet, melody composer, arrangement, or production details.

← Browse
Lakhon Karoron Darood O Salam

Lakhon Karoron Darood O Salam

AI-Enriched90%

Story & Cultural Context

A relaxing Urdu naat centered on sending abundant darood o salam upon the Prophet Muhammad. The available title-level metadata identifies Nasheed Club as the artist, but does not establish the…

Titles in Other Languages

العربيةلاکھوں کروڑوں درود و سلام
EnglishMillions and Billions of Blessings and Peace

Lyrics

آسلام، آسلام، آسلام مصطفیٰ
لاکھوں کروڑ درود و سلام
لاکھوں کروڑ درود و سلام
ساتھ لاکھوں کا ساتھ فاطمہ
چکی نظریں اٹھی پلک دلوں پر
ایک شباب آیا سہر کے وقت اندھے
روم جب ایک آفتاب آیا
کسی کو کیا خبر کے روشنی
اس کی کہاں تک ہے
کسی کو کیا پتہ اس کی رسائی
لا مکان تک ہے
امی کے گھر سے لے کر
ولوہ ارش بالا تک
حرم کے آب رحمت سے
وہاں جنت کی حالہ تک
وہ مشرق مغرب نکے
آفاق سے آگے
وہ شری کی انتہالیں
چھوڑ کر افلاق سے آگے
تنہا کی منزلوں میں
لوگ خدیدے چشم پائیں گے
حضور رہ گزر میں
لا مکان تک ہو کے آئیں گے
کسی کو کیا خبر ان کے لیے ہی
تو بنے کون ہیں
کوئی کیسے سمجھتا
ان کی خاطر بل گئے ہر میں
لاکھوں کروڑوں درود و سلام
ساتھ لاکھوں کا ساتھ فاطمہ
انہیں آدم کے حصول تدا کا
واسطہ کہیے خلیل اللہ
زبیر اللہ دونوں کی دعا کہیے
وہ بچپن بھی لڑکپن بھی جوانی
وہ ہوا کہیے خدا کے بعد ان کو
لا شریک ماورا کہیے
حسیلے قلب نورانی ملائک ہو
تو کیا کہیے غسل کا
بہو زمزم تو پھر سلحی علی کہیے
انہیں تو بے وفاؤں کے لیے بھی باوفا کہیے
انہیں طائف کے میدان میں رحمت کی گھٹا کہیے
حرم کی راہ گزر میں جب چلے پتھر سلامی دے
نکوش پاس منزل کی دکھائی سب کو امیدیں
ہرا کے غار سے نکلے تو سارے راز کھلتے ہیں
نئے انداز میں آ کر وہ دنیا میں اُبھرتے ہیں
صدا کتھ کے لیے ہاتھوں میں پتھر رب نے بلواے
انہی کی چاہ پر اللہ سورج کو بھی پلٹائے
کوئی تکلیف دیتا آپ کو تو عرش ہل جاتا
اسے رب کی رضا ملتی جو آ کر ان سے مل جاتا
جلک ان کی دکھانے کو بنایا وہ زحہ چہرہ
اندھیری رات میں ولیل سا ہے ذلف کا سہرا
مہک محسوس کرنے کو بنی نصرین کی پتیاں
دیل تاریخ میں ان کی جلک سے جل گئی بتیاں
لاکھوں کروڑوں درود و سلام
ساتھ لاکھوں کا ساتھ فاطمہ
قمر بھی روز ان کا موجزہ لاکر دکھاتا ہے
فرشتہ روز ان کا نام لے لے کر جگاتا ہے
چلن گفتن رہن سارے جہانے آپ سے سیکھا
عدب فلکو حیاء اہل زمانے آپ سے سیکھا
وہ صدیوں چوم جاتا ہے وہ جس کو چوم لیتے ہیں
انہیں قرآن کی صورت کا سب مفہوم لیتے ہیں
تمامی خلق لے کر نام غم کو دور کرتی ہے
صنا پر لطف ہے ان کی ہمیں مسہور کرتی ہے
لوعابدہن ہو جس کو میسر باس شفا پائے
جو دیکھے دیکھتا جائے نظر کو نہ ہٹا پائے
ہزاروں دی دور دی داوری کا شوق رکھتے ہیں
ہٹاؤ پردہ ہم پردہ دری کا شوق رکھتے ہیں
عدائیں دیکھ کر لگتا وہی ہے حسن کا منبہ
جہاں وہ بیٹ جاتے گید لگ جاتا تو ایک مجمع
حسین القاب کاری روز پڑھ پڑھ کر سناتا ہے
وہی اصاف والد روز بیٹو کوس کھاتا ہے
انہی رہ بری پیغم بری کی ختم پہنائی
تمہیں دوں کے میں نہ ڈالے کوئی بھی کانا مرزائی
یہ دو کاباز دوں کے اسے ہی تو ایمان لیتے ہیں
کسی کا آنے کو کیوں مانے جو ان کو مان لیتے ہیں
انہیں ایک بار جو دل کا مکر پہچان لیتے ہیں
حقیقت ہے کہ پیر مور پہ اپنی جان دیتے ہیں
لاکھوں کروڑوں درود و سلام
ساتھ لاکھوں کا ساتھ فاطمہ
قمر بھی روز ان کا موجزہ لاکر دکھاتا ہے
فرشتہ روز ان کا نام لے لے کر جگاتا ہے
چلن گفتن رہن سارے جہانے آپ سے سیکھا
عدب فلکو حیاء اہل زمانے آپ سے سیکھا
وہ صدیوں چوم جاتا ہے وہ جس کو چوم لیتے ہیں
انہیں قرآن کی صورت کا سب مفہوم لیتے ہیں
تمامی خلق لے کر نام غم کو دور کرتی ہے
صنا پر لطف ہے ان کی ہمیں مسہور کرتی ہے
لوعابدہن ہو جس کو میسر باس شفا پائے
جو دیکھے دیکھتا جائے نظر کو نہ ہٹا پائے
ہزاروں دی دور دی داوری کا شوق رکھتے ہیں
ہٹاؤ پردہ ہم پردہ دری کا شوق رکھتے ہیں
عدائیں دیکھ کر لگتا وہی ہے حسن کا منبہ
جہاں وہ بیٹ جاتے گید لگ جاتا تو ایک مجمع
حسین القاب کاری روز بڑھ بڑھ کر سناتا ہے
وہی اصاف والد روز بیٹو کوس کھاتا ہے
انہی رہ بری پیغم بری کی ختم پہنائی
تمہیں دوں کے میں نہ ڈالے کوئی بھی کانا مرزائی
یہ دو کاباز دوں کے اسے ہی تو ایمان لیتے ہیں
کسی کا آنے کو کیوں مانے جو ان کو مان لیتے ہیں
انہیں ایک بار جو دل کام کر پہچان لیتے ہیں
حقیقت ہے کہ پیر مور پہ اپنی جان دیتے ہیں
لاکھوں کروڑوں درود و سلام
ساتھ لاکھوں کا ساتھ فاطمہ