
Genre: nasheed, naat, madihType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu naat expressing a devotional longing to return to Madinah and visit the Prophet’s Mosque. Publicly available metadata identifies the performance as a Nasheed Club recording, but does not clearly document the original lyricist, composer, arrangement, or production credits.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This is an Urdu naat expressing a devotional longing to return to Madinah and visit the Prophet’s Mosque. Publicly available metadata identifies the performance as a Nasheed Club recording, but does…
Titles in Other Languages
العربيةپھر سوئے مدینہ جاؤں گا
EnglishI Will Go to Madinah Again
TürkçeYine Medine'ye Gideceğim
Lyrics
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ بعدوں کا کبھی تورا تسفر پہ سوئے مدینہ جاؤں گا جنت کے نظارے دنیا میں تحبہ میں دیکھنے آوں گا وہاں کی آبازیاں مبارک وہاں کی تیاریاں مبارک وہاں کا آرام و نیند چھوڑو وہاں کی بیداریاں مبارک وہاں چمکتی ہے زندگانی وہاں مہک جائے گی جوانی ہوا اے تحبہ سے ملی ہے اسی نے پائی ہے شاد مانی نظر ہے ڈھونڈے دیار تحبہ دلوں کی دھڑکن مزار تحبہ عزاء دنیاں سے دے رہا ہے دکھا خدایہ بہار تحبہ ہٹے گا اک دن ہجاب تحبہ میں چوم لوں گا تبار تحبہ ہزار عیدیں مناؤں گا میں ہو جائے پورا نواب تحبہ تصورہ میں جو ہے خیالیں اسی جگہ کا ہوں میں سوالی وہاں پہ جانا جہاں ہو یسر میں چوم لوں گا اس حرم کی جالی یاہے دل کو یہی سہارا کبھی تو ہوگا ہمیں نظارہ دعا اے کرتے رہیں گے ہر دم دکھائے گا بھی تو خدا ہمارا دیدار خدایہ ہو جائے سلطان مدینہ کے در کا آنکھوں کا ترسنا دور کرو دکھلا کے نظارہ دور کرو بعدوں کا کبھی تورا تسفر پہ سوئے مدینہ جاؤں گا جنت کے نظارے دنیا میں تحبہ میں دیکھنے آؤں گا زمیں میں تاروں کا اک سماہ ہے دیکھے زمیں جیسے آسمان ہے چمکتے میناروں سبز گمبت میں کیسا لگے جو سرور جائے ہولو کا اگر حرم میں وجود ہوگا میرا نہم میں جوان آقا جو بسے رہا میں ڈوب جاؤں رحم کے یم میں جو نام خیر الانام واعے دروز بھیجو سلام واعے عدب تے سر کو جھکائے رکھو حضور کا جو مقام واعے در نبی کی ہزار چاہت چھٹے ابھی تو میری مسافت جو حاضری کا ملے بہانہ تھکاں نے ہمرے کی پاؤں راحت سہر کے سجدوں کی بی بلیق ہو جنوے چشمی کی اک بلیق مترتوں کا ہو اقتلا تم مگر جدائی کی بیک گتا کو ضمی کے اطراف کے مقامی میں ڈھونڈتے ہیں جہاں غلامی وہاں گزاروں یہ زندگانی وہاں کفن جاؤں انتدامی قسمت پہ میں نادا ہو جاؤں تیبا میں تواری لے جاؤں تیبا میں تواری لے جاؤں دلدار امم کی چوکھٹ پر کوئی تو ہواری لے جاؤں مادوں کا کبھی دورہ تسفر پہ سوئے مدینہ جاؤں گا جنت کے نظارے دنیاں میں تیبا میں دیکھنے آؤں گا بنا دے اے رب مدینہ مکرم سوار دے یا خدا رجب خدا نبی کا ہے نام لے کر دھڑکتی جائے یہ دل کی دھڑکن یاری میں پوت میں بھی جاؤں یہ پیاں خدا کے لیے جھکاؤں آیا میں شب میں کلام رب میں عبادتوں کا سرور پایا تیبا کے جینا ہم کو پسند ہے پیرا کے غم جینا فرق مجھ نہ ہو دل کو بسیر اہم مرہوم یہ جینا شہر مدینہ خیر مدینہ وہاں کا رونا ہنہ دار جینا بولو نہ میری نواہ پہ فضان رمضان کا مہینہ اما مرادوں کی دوا ہے فکت مدینہ فی ابشفاہ فراہ تے مشرقی کا خصہ فراہ تے باقی التجاہ خیال مشقی خدای طیمہ ہاں کالو ہندی ہوا طیمہ مجھے ملی روح کی تمنہ مثال تقدمی خدای طیمہ دلم چاہے دعایں طیمہ جذباتوں کی دنیا سبھ جائے ہاتھوں میں ہو جانیری کو دیکھیں یہ سانسیں وہیں پہ نکل جائے بعدوں کا کبھی تورا آف تے سفر پہ سوئے مدینہ جاؤں گا جنت کے نظارے دنیا میں تحبہ میں دیکھنے آؤں گا