Skip to main content
Aajiz Faqeer Hoon Main cover art

Aajiz Faqeer Hoon Main

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 5:52

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2026Type: nasheed

Story & Cultural Context

This is an Urdu naat centered on the devotional expression “Aajiz Faqeer Hoon Main,” meaning “I am a humble, helpless beggar.” The listing identifies Hafiz Zubair and Atiq Ur Rehman in connection with the performance, while Nasheed Club appears to be the publishing or distributing channel.

← Browse
Aajiz Faqeer Hoon Main

Aajiz Faqeer Hoon Main

Nasheeds 5:52 2026
AI-Enriched90%

Credits

LabelNasheed Club

Story & Cultural Context

This is an Urdu naat centered on the devotional expression “Aajiz Faqeer Hoon Main,” meaning “I am a humble, helpless beggar.” The listing identifies Hafiz Zubair and Atiq Ur Rehman in connection with…

Titles in Other Languages

العربيةعاجز فقیر ہوں میں
EnglishI Am a Humble Beggar

Lyrics

یا میرے اللہ، یا میرے مولا تیرا ہی آسرا، تو ہی حاجت رواں سن لے اللہ میری سن لے اللہ میرا تو بس تو ہی اے میرے مولا تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں آلا بلند و برتر تیری ہے ذات داور فا کی وجود میرا زلط پذیر ہوں میں مولا تو ہے قریم مولا تو ہے قریم مولا تو ہی ستار مولا تو ہی غفار تو ہے سب سے عظیم تو ہے سب سے رحیم آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں جاری ہے ظلم میری آنکھوں کے سامنے ہی دل مر چکا ہے میرا اب بے ضمیر ہوں میں تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں سن لے اللہ میری سن لے اللہ میرا تو بس تو ہی اے میرے مولا اقرار کر رہا ہوں جب سے شعور آیا نفسانی خواہشوں کا تب سے اسیر ہوں میں تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں اسیان کی گھاٹیوں میں کاٹی ہے عمر ساری اب آسیون میں خود ہی اپنی نظیر ہوں میں مولا تو ہے قریم مولا تو ہے قریم مولا تو ہی سطاع مولا تو ہی غفر تو ہے سب سے عظیم تو ہے سب سے رحیم آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں سنفی تجھے ابھی تک شاید پتا نہیں ہے اپنا مرید بھی ہوں اپنا ہی پیر ہوں میں تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں سن لے اللہ میری سن لے اللہ میرا تو بس تو ہی اے میرے مولا میرا وجود دانش لگتا ہے مجھ کو جیسے ساحل کی ریت پر ایک مٹتی لکیر ہوں میں تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں تو ہے قریم یا رب آجز فقیر ہوں میں آیا ہوں تیرے در پر یا رب حقیر ہوں میں