
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu motivational nasheed whose title refers to travelers on the path of resolve, determination, or greatness. Publicly identifiable metadata provides the artist, title, album, language, and duration, but no verified credits or documented release backstory.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This is an Urdu motivational nasheed whose title refers to travelers on the path of resolve, determination, or greatness. Publicly identifiable metadata provides the artist, title, album, language,…
Titles in Other Languages
العربيةراہِ عزیمت کے راہی
EnglishTravelers on the Path of Determination
Lyrics
راہِ الفت کے راہی راہِ الفت کے راہی راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی یہ رستہ ہے بڑا الجا ہوا مت بھول اے راہی یہ رستہ ہے بڑا الجا ہوا مت بھول اے راہی یہاں دشمن ہزاروں اور ہزاروں رازداں ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی کبھی چلنا پڑے گا تجھ کو تنہا اس کٹھن راہ میں کبھی چلنا پڑے گا تجھ کو تنہا اس کٹھن راہ میں کبھی اس راہ میں شامل ہزاروں کارمہ ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی اکیلا پن تجھے کاتے گا صافو کی طرح جس دم تیری آنکھوں سے عشقوں کے عجب دریہ رواں ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی جگر کو تھام لینا صبر کے تم جام پی لینا کہ تیرے سامنے جس دم منازل خود چکا ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی تجھے بپھرے ہوئے توفاں بھلا کیا روک پائیں گے تجھے بپھرے ہوئے توفاں بھلا کیا روک پائیں گے تیرے بیتاب سینے میں اگر جذبے جواں ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی تجھے منزل تلک جانا ہی ہوگا روند کر ان کو ہزاروں آگ کے شاہرہ جو اس کے درمیان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی جگر کا خون دے کر جب سوارے گا چمن کو تو جگر کا خون دے کر جب سوارے گا چمن کو تو چمن کے خوشنبات آر بھی تیرے نغمخواں ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی تیری قربانیوں سے جب جبینِ ظہر چمکے گی تو پھر نازا صدا تجھ پہ زمین و آسمہ ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہجازی تیرے رستے میں بچھائیں گے وہ پلکوں کو ہجازی تیرے رستے میں بچھائیں گے وہ پلکوں کو تیرے زخمی بدن کے جو یہاں پہ قدردہ ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی ہزاروں امتحان ہوں گے کبھی اس راہ میں کانٹے کبھی سنگِ گراہوں گے راہِ الفت میں اے راہی