
Genre: nasheedYear: 2016Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Islamic kalam performed by Rao Brothers and associated with a program or presentation titled “Jashn-e-Azeemushan 2016.” Publicly verifiable information about its specific lyrics, composition, production, and performance context is limited.
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Story & Cultural Context
This appears to be an Islamic kalam performed by Rao Brothers and associated with a program or presentation titled “Jashn-e-Azeemushan 2016.” Publicly verifiable information about its specific lyrics,…
Lyrics
جشن عید ملاد ہے سبح نور ہے سماں کا صبح شعبہ کی عادت پردہ اٹھائے کس کا صبح شعبہ کی عادت یا رب اول تیری جھلک کے سامنے چمکا دیا نصیبہ صبح شعبہ کی عادت چمکا دیا نصیبہ صبح شعبہ کی عادت آئینہ حکومت سے کانعہ سجے گا آئینہ حکومت سے کانعہ سجے گا ہرندر انگ بلہ صبح شعبہ کی عادت جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں جشن عید ملاد ہے صبح سبح نور ہے سماں کا صبح شعبہ کی عادت پردہ اٹھائے کس کا صبح شعبہ کی عادت پردہ اٹھائے کس کا صبح شعبہ کی عادت جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں ایسا مناہے دنیا دیکھے ایسا مناہے دنیا دیکھے ہو جائے حیران جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں اپنے ربی کے گھر میں محبوب خدا کے آئے ہیں محبوب خدا کے آئے ہیں صحبی دیوی امیر آمد کے آگے جھنڈے لے آئے ہیں ہونوں بل کرے خوشیاں گھر سرکار قدم بگائے ہیں جشن عید کی مکی عالم میں آئے نبیوں کے سلطان جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں سرکار آرہے ہیں اٹھو اے بسا رو سرکار آرہے ہیں موجود کی گہری ہے جشن آمد کے گھر پہ موجود کی گہری ہے جشن آمد کے گھر پہ اے ہلت کی بہارو سرکار آرہے ہیں جو مانگنا ہے مانگو جو لینا ہے سو لے لو دنیا کے تاجدارو سرکار آرہے ہیں بللا سجاو گلیاں بگاو پڑھ سب لہراؤ بابر مناو جشن نبی پڑھ کر مرجم سب اپنا ہے قربان جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں آقا کے قدموں کے دیپ جلائیں گے ہم عید نبی کے پھولوں سے اپنی گلیاں سجائیں گے ہم عید نبی کے پھولوں سے اپنی گلیاں سجائیں گے قصدی جنجگا پر پھول بنانا اپنا ہے ایمان جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں شاہی گزر ہے آج کے ہر ایک گلی جو روشن ہے کس کی آمد جلوے کے سرافی اب گلشن ہے ساسوں میں ذکر سلحلا اور وہے بسرا ہر دھڑکن ہے جشن کی گزر ہے ہر دھڑکن ہے جشن کی گزر ہے ہر دھڑکن ہے جشن کی گزر ہے ہر دھڑکن ہے جس سے جذباتی سے جی پہ ہوا مرن بہے قربان جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں جشن عید خوشیاں تصدیق چاہے جشن عید خوشیاں موجود کے بینگاہ سے اللہ کے ظل پر نبیوں کے سر پر انورت کے روان جشن عید خوشیاں