
Genre: nasheed, naat, madih, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is a naat medley by Rao Brothers centered on the devotional phrase “Naat-e-Sarkar Ki Parhta Hun,” meaning that the singer recites praise of the Prophet. The available listing identifies it as a 9:48 performance from the album “Nasheeds,” but does not provide verified songwriter, production, or…
← Browse

AI-Enriched90%
Story & Cultural Context
This is a naat medley by Rao Brothers centered on the devotional phrase “Naat-e-Sarkar Ki Parhta Hun,” meaning that the singer recites praise of the Prophet. The available listing identifies it as a…
Titles in Other Languages
العربيةنعتِ سرکار کی پڑھتا ہوں
EnglishI Recite the Naat of the Prophet
Lyrics
نامِ محمدؐ پہ سلنے آرا آنکھوں کی ٹھنڈک دل کی جلا یہ نام کوئی کام بگڑنے نہیں دیتا بگڑے بھی بنا دیتا ہے بس نامِ محمدؐ ناتِ سرکار کی پڑھتا ہوں میں بس کسی نام سے گھر میں میرے رونک ہوگی ایک تیرا نام وسیلہ ہے میرا رنج و غم میں بس کسی نام سے راحت ہوگی ان کو مختار بنایا ہے میرے مولا نے فلک میں بس وہی جا سکتا ہے جو سنجینے کے بعد کی اجازت ہوگی ناتِ سرکار کی پڑھتا ہوں میں بس کسی نام سے گھر میں میرے رونک ہوگی یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی آیتوں سے ملا سا رہا آیتیں جو دیکھا تو ناتِ نبی بن گئی یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی جو بھی آنسو بہے میرے محبوب کے سب سب رحمت کے چھینٹے بنے جو بھی آنسو بہے میرے محبوب کے سب سب رحمت کے چھینٹے بنے آگئی رات جب سفلے رات گئی جب تب سن کی آدھان ولی بن گئی یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی بے سنا ہے کہ بہت گول اندھیری ہوگی تب لکھا خوف نہ رکھنا اے دل وہاں سرکار دو عالم کی زیارت ہوگی ناکے سرکار کی پڑھتا ہوں میں بس کسی نام سے گھر میرے دونت ہوگی جب چلا بسکرا حسن محبوب کا ودو ہاں کہہ دیا والکمر پڑھ لیا جب چلا بسکرا حسن محبوب کا ودو ہاں کہہ دیا والکمر پڑھ لیا آیتوں کی تلاوت بھی ہوتی رہی نات بھی بن گئی سبات بھی بن گئی یا محمد محمد میں کہتا رہا دور کے موتیوں کی لڑی بن گئی یا محمد محمد میں کہتا رہا دور کے موتیوں کی لڑی بن گئی حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہوگا حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہوگا صفیں لگے راہتیں جب آئیں گے تو قیامت بھی نبی کی اور قیامت ہوگی ناک سرکار کی پڑھتا ہوں میں بس کسی نام سے گھر میں میرے دونت ہوگی صفیں صاف ستھرا میں مجبور تھا صفیں صاف ستھرا میں بے بس تھا مجبور تھا میری حالت پہ ان کو رحم آگیا میری قسمت میری بے بسی بن گئی قربان میں ان کی بڑچ چکے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں قربان میں ان کی بڑچ چکے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں بے مانگے دیا اور ایک نہ دیا بے مانگے دیا اور ایک نہ دیا جامن میں ہماری سمائی آس آئی ناتِ سرکار کی پڑھتا ہوں میں بس کسی نام سے گھر میں میرے رونق ہوگی بس کسی نام سے گھر میں میرے رونق ہوگی بس کسی نام سے گھر میں میرے رونق ہوگی