
Top Track "Allah Kay Ghar Dair Hay Andher Nahi Hay" By Rao Asad Ali Asad and Rao Hassan
by Rao Brothers
Album: Nasheeds
Genre: nasheed, hamd, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu Islamic devotional performance by Rao Asad Ali Asad and Rao Hassan, credited under Rao Brothers. The title expresses the devotional idea that divine justice may be delayed but is never absent.
← Browse

AI-Enriched70%
Story & Cultural Context
This is an Urdu Islamic devotional performance by Rao Asad Ali Asad and Rao Hassan, credited under Rao Brothers. The title expresses the devotional idea that divine justice may be delayed but is never…
Titles in Other Languages
العربيةاللہ کے گھر دیر ہے، اندھیر نہیں ہے
EnglishAt Allah’s House There Is Delay, but No Injustice
Lyrics
سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے ڈرلنگ کی جا رہی تھی جس کے بعد ٹیسٹنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے حکام کے مطابق تیل اور گیس کا ذخیرہ نہیں مل سکا بابا بابا یہ آپ کو پتہ چلا کہ تیل اور گیس کے ذخائر برامت نہیں ہوئے کب بدلیں گے ہمارے ملک کے حالات کب ہم ترقی آفتہ ہوں گے اور آخر کب اس دنیا میں ہماری عزت ہو گی بیٹا وہ دن دور نہیں جب اقوام عالم میں ہماری ہاں میں ہاں اور ہماری ناں میں نہ ہو گی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں انشاءاللہ ایک دیوانہ ایک جنگل میں تنکے چاہ رہا تھا اور کہہ رہا تھا وہ دن دور نہیں کہ پاکستان کے ہاں اور نام اقوام عام کے فیصلے ہوا کریں ہاں؟ با یوز کبھی ہوتا نہیں با یوز کبھی ہوتا نہیں جس کو یقینی ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے امید کا دامن کسی حال میں چھوڑو اب راؤ نہیں صبر کی دیوار نہ توڑو تقویٰ ہو اگر دل میں تو ملتی ہے خدای اس ذات بینا کون سنے تیری دہائی وہ ذات جو ہر شخص کے شہرگ میں مکی ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے با یوز کبھی ہوتا نہیں جس کو یقینی ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے مچھنی کا پیٹ بن گیا انسان کا سایہ اس بے نیاز ذات نے یوں اس کو بچایا جب آتش نمرود کا بازار گرم تھا اس کے کرم نے آگ کو گلدار بنایا وہ دور ہے کب دل میں تیرے کوشہ نشی ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے با یوز کبھی ہوتا نہیں جس کو یقینی ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے مشکل میں جب نہ آیا نظر کوئی سہارا موسیٰ نے آنکھیں بند کی مولا کو پکارا آگے تھا نیل پیچھے تھی پیرون کی فوجے جس نے بنایا نیل کی موجوں کو کنارہ اتنا کریم رہنمہ سوچو تو کہیں ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے با یوز کبھی ہوتا نہیں جس کو یقینی ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے حالات سے ایمان کو تولہ نہیں کرتے اللہ کے بندے کبھی شکوا نہیں کرتے یہ رسم سکھائی ہے حسین ابن علی نے سرسجدے میں ہوتیرا کو دیکھا نہیں کرتے سجدوں سے جو روشن ہے وہ مومن کی جبین ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے با یوز کبھی ہوتا نہیں جس کو یقینی ہے اللہ کے گھر دیرے دل اندیرے نہیں ہے اندیرے نہیں ہے اندیرے نہیں ہے