
Genre: nasheed, madih, munshidYear: 2019Type: nasheed
Story & Cultural Context
This Urdu devotional manqabat praises Ghaus Pak, a title commonly associated with Shaykh Abdul Qadir Jilani. The track appears to be a 2019 performance by Rao Brothers and is presented as a contemporary Islamic devotional audio recording.
← Browse

AI-Enriched95%
Story & Cultural Context
This Urdu devotional manqabat praises Ghaus Pak, a title commonly associated with Shaykh Abdul Qadir Jilani. The track appears to be a 2019 performance by Rao Brothers and is presented as a…
Titles in Other Languages
العربيةمنقبتِ غوثِ پاک
EnglishNew Manqabat of Ghaus Pak
Lyrics
غوثِ اعظم شہہ جیلاں پھر پیراں میر میراں سارے ولی ہیں آپ کی چوکھٹ کے سوالی ولیوں میں میرے غوث کی ہے شان نرالی کیا مرتبہ ہے غوث کا بتاؤں آپ کو کیا شان ان کو رب نے دی سناوں آپ کو والد ولی تھے حسنی حسینی تھی والدہ دونوں طرف سے اعلیٰ گھرانا ہے آپ کا پیدا ہی تھی ولی یہ نہیں کس میں شک کوئی ثانی نہیں ہے ان کا کہیں دور تک کوئی سارے ولی ہیں آپ کی چوکھٹ کے سوالی ولیوں میں میرے غوث کی ہے شان نرالی غوثِ اعظم شہہ جیلاں پھر پیراں میر میراں قرآن پڑھنے لے کے گئے نان اجز گھڑی قرآن پڑھیں پہلی نظر آپ کی پڑھی پڑھنے لگے قرآن پڑھائیں بغیر ہی اٹھارہ پارے پورے سنا کر رکے وہ جب کاری نے پوچھا تھی کہ کہاں آپ نے یہ کب فرمایا ماں پڑھتی تھی جب ہم تھے پیٹ میں سن کر وہی پہ آج ہوئے ہیں یہ سب ہمیں بچپن میں ہی یہ پہلی کرامت ہے مثالی ولیوں میں میرے غوث کی ہے شان نرالی غوثِ اعظم شہہ جیلاں پھر پیراں میر میراں ایک روز ایک چور چلا آیا ان کے گھر تھا وہ جنابِ غوث کے رتبے سے بے خبر جیسے ہی چوری کرنے لگا دیکھو کیا ہوا وہ چور اپنی آنکھوں سے نابینا ہو گیا ہر سو اندھیرہ چھایا نہ آتا تھا کچھ نظر رونے لگا وہ ایسے میں پھر چیخ چیخ کر رونے کی جو آواز سنی غوثِ جادو کے رونے کی وجہ آپ نے پھر پوچھی چور سے بولا موہ آپ کیجئے چوری کو آیا تھا جیسے ہی چوری کرنے لگا اندھا ہو گیا فرمایا چپ ہو مانگتے رب سے دعا ہے ہم کی سچی توبہ اس پہ ہوا غوث کا کرم روہ ایسی دی کے اس کو مالا مال کر دیا واصل بنا نے چور کو عبدان کر دیا لوٹا نہیں ہے کوئی بھی دربار سے خالی ولیوں میں میرے غوث کی ہے شان نرالی غوثِ اعظم شہہ جیلاں پھر پیراں میر میراں روٹے تھے ان کی بزم میں افراد ہزاروں گلشن میں گل ہو جس طرح آباد ہزاروں ماں ایک کے بنا سنتے تھے سب بات آپ کی ہر بات ان کے واسطے سو بات آپ کی یک سا سنائی دیتی تھی آواز آپ کی یہ بھی تو ایک زند کرامت ہے آپ کی وہ امت رسول کو شیطان سے بچا کر مرکز پہ ایک لائے ہیں فرقوں کو مٹا کر زندہ کیا ہے دین رسولِ انام کو آتے ہیں اہل علم یوں در پر سلام کو دیکھا ہے راہ حق میں نے زادی کو امین کہتی ہے دنیا ان کو جب ہی تو محی الدین ولیوں میں ان کو بخشا ہے اللہ نے کمال کر پائیں ان کی شان بیان اپنی کیا مجال کہ کر یہ اک سورہ انہیں بس بات بنا لی ولیوں میں میرے غوث کی ہے شان نرالی غوثِ اعظم شاہ جیلاں پھر پیراں میر میراں غوثِ اعظم شاہ جیلاں پھر پیراں میر میراں