
Dosti - Rao Mutahir Rao Arsal - Atiq Ur Rehman - Naseef Moosani - Farhan Sheikh - Irfan Umer Haideri
by Rao Brothers
Album: Nasheeds
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be a nasheed titled “Dosti,” meaning “Friendship,” performed by Rao Brothers and the additional vocalists named in the track title. No independently verifiable information was found establishing a specific release occasion, composition history, or production backstory.
← Browse

Dosti - Rao Mutahir Rao Arsal - Atiq Ur Rehman - Naseef Moosani - Farhan Sheikh - Irfan Umer Haideri
AI-Enriched70%
Featured Artists
Rao MutahirRao ArsalAtiq Ur RehmanNaseef MoosaniFarhan SheikhIrfan Umer Haideri
Story & Cultural Context
This appears to be a nasheed titled “Dosti,” meaning “Friendship,” performed by Rao Brothers and the additional vocalists named in the track title. No independently verifiable information was found…
Titles in Other Languages
EnglishFriendship
Lyrics
دوستی اپنی دوستی اپنی تعلق جسم کا ہے یہ مگر روح کی محبت ہے وہ ود کا نشاہ ہے اور یہ راحت ہے یہ الفت ہے سبتن سے بھی گہری یہ لگی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی محبت کے چراغوں سے سجی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی یہ اپنا مانگ یارانہ یہ ہے پہچان یارانہ یہ جذبہ دل کے سانہوں کا یہ اپنی جان یارانہ یارانہوں کا بھگیچہ گل کلی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی سبک اخلاق کے پڑھ کر چلے اصلاح سکی جانب غموں کو بانٹ لیتی ہے روائے احساس کی جانب حسین پھولوں کے گلشن میں گہری ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی لبوں پہ چاہت کی نرمی چلے تو مل سجنر میں مسئبت میں سہارا دوست کے جذبات کی گرمی غموں کا توڑ خوشیوں کی گڑی ہے دوستی اپنی سب تن سے بھی گہری ہے لگی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی سکھاتی ہے وفا کرنا اچھائی اور بھلا کرنا دعائے ہے ربی جا رب یہ رشتہ نہ جدا کرنا پروسے کے سچوں سے لگی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی وفاؤں کے سمیرن میں دھو دی ہے دوستی اپنی تعلق جسم کا ہے یہ مگر روح کی محبت ہے وہ ود کا نشاہ ہے اور یہ راحت ہے یہ الفت ہے سب تن سے بھی گہری ہے لگی ہے دوستی اپنی دوستی اپنی