
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
“Sorrows of Love” is presented as an Urdu nasheed by Mohammad Zafar with English subtitles. The available listing identifies the performance and subtitle format but does not provide verified composer, lyricist, arrangement, production, or recording details.
← Browse

AI-Enriched62%
Story & Cultural Context
“Sorrows of Love” is presented as an Urdu nasheed by Mohammad Zafar with English subtitles. The available listing identifies the performance and subtitle format but does not provide verified composer,…
Titles in Other Languages
EnglishSorrows of Love
Lyrics
کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی در بدر وہ میں عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی نیند میں کبھی ہوش میں تو جہاں ملا تجھے دیکھ کر کبھی نیند میں کبھی ہوش میں تو جہاں ملا تجھے دیکھ کر نہ نظر ملی نہ زبان ملی یوں ہی سر جھکا کے گزر گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی زلف پر کبھی چشم پر کبھی تیرے حسین وجود پر کبھی زلف پر کبھی چشم پر کبھی تیرے حسین وجود پر جو پسند تھے میری کتاب میں وہی شیر سار بکھر گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے مگر آج ہم ہیں جدا جدا مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے مگر آج ہم ہیں جدا جدا وہ جدا ہوئے تو سمر گئے ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی در بدر کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی در بدر ہم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے ہم کہاں کہاں سے گزر گئے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوں ہی عمر ساری گزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے