
Baidar Ho Muslim - Superhit Motivational Nasheed - Sibghatullah Iqbal - Faris Club - Anasheed Studio
by Faris Club
Album: Nasheeds
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu motivational nasheed urging Muslims to awaken, remain conscious of their faith, and take responsibility for their community. The recording is associated with vocalist Sibghatullah Iqbal and the Anasheed Studio production channel, but detailed publication credits are not clearly documented.
← Browse

Baidar Ho Muslim - Superhit Motivational Nasheed - Sibghatullah Iqbal - Faris Club - Anasheed Studio
AI-Enriched95%
Credits
ProducerAnasheed Studio
LabelWithout label
Story & Cultural Context
An Urdu motivational nasheed urging Muslims to awaken, remain conscious of their faith, and take responsibility for their community. The recording is associated with vocalist Sibghatullah Iqbal and…
Titles in Other Languages
العربيةبیدار ہو مسلم
EnglishAwake, O Muslim
TürkçeUyan Ey Müslüman
Lyrics
مسلم مسلم مسلم بیدار ہو بیدار ہو مسلم مسلم بیدار ہو مسلم اب فقط شور مچانے سے نہیں کچھ ہوگا صرف ہونٹوں کو ہلانے سے نہیں کچھ ہوگا زندگی کے لیے بے موت ہی مرتے کیوں ہو اہل ایمان ہو تو شیطان سے ڈرتے کیوں ہو تم بھی محفوز کہاں اپنے ٹھکانوں پر ہو بعد بغداد تم ہی لوگ نشانوں پر ہو بیدار ہو مسلم مسلم بیدار ہو مسلم سارے غم سارے گلے شکوے بھولا کر اٹھو دشمنی جو بھی ہے آپس کی مٹا کر اٹھو اب اگر ایک نہ ہو پائے تو مر جاؤ گے خشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے اپنے شہروں میں لائنوں کو ٹھہرنے مت دو لشکر کفر کو صاحب پہ اترنے مت دو خود کو پہچانو کہ تم لوگ وفا والے ہو مصطفیٰ والے ہو مومن ہو خدا والے ہو کفر دم توڑ دے ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ تم نکل لاؤ اگر نارائے تکبیر کے ساتھ بیدار ہو مسلم مسلم بیدار ہو مسلم اپنے اسلام کی تاریخ الٹ کر دیکھو اپنا گزرا ہوا ہر دور پلٹ کر دیکھو تم پہاڑوں کا جگر چاک کیا کرتے تھے تم ہی دریاؤں کا رخ موڑ دیا کرتے تھے در خیبر کو اکھارا تھا تمہیں یاد نہیں تم نے باطل کو پچھارا تھا تمہیں یاد نہیں کیا تمہیں یاد نہیں ظلم مٹانے کے لیے امن و انصاف کے غنچوں کو کھلانے کے لیے پھرتے رہتے تھے شم و روز بایابانوں میں زندگی کٹ دیا کرتے تھے میدانوں میں رہتے محلوں میں حرکت آیت حق بھول گئے عیش و عشرت میں پیغمبر کا سبق بھول گئے بیدار ہو مسلم مسلم بیدار ہو مسلم ہر طرف ظلم جبر کی یہ گھٹا سی چھائی خواب سے جاؤ یہ بغداد سے آواز آئی تھنڈے کمروں سے محلوں سے نکل کر آؤ پھر سے تبتے ہوئے صحراوں میں چل کر آؤ اپنے قدموں پہ زمانے کو جھکانا ہے تمہیں نام ہر دشمن ایمان کا مٹانا ہے تمہیں لے کے اسلام کے لشکر کی ہر ایک خوبی اٹھو اپنے سینوں میں لیے جذبہ ایوبی اٹھو راہ حق کے لیے تم صف رکھ کا ساما بادھو تاج ٹھوکر پہ رکھو سر پہ عماما بادھو بیدار ہو مسلم مسلم بیدار ہو مسلم تم جو چاہو تو زمانے کو ہلا سکتے ہو فتح کی ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہو دشمنیں بھی بلند آواز نہیں کر سکتے تم نہ دو تین تو پرواز نہیں کر سکتے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے خود وہ تینکوں کی طرح موج میں بہہ جائیں گے خود کو پہچانو تو سب اب بھی سنبھل سکتا ہے دشمنِ امن کا شیرازہ بکھر سکتا ہے حق پرستوں کے فسانے میں کہیں موت نہیں تم سے ٹکرائے زمانے کی یہ اوقات نہیں بیدار ہو مسلم مسلم بیدار ہو مسلم