Skip to main content
Aye Shaheedon Tumhara Ye Ahsan Hai cover art

Aye Shaheedon Tumhara Ye Ahsan Hai

by Faris Club

Album: Nasheeds

Duration: 7:18

Genre: nasheed, munshidYear: 2023Type: nasheed

Story & Cultural Context

This is an Urdu patriotic nasheed honoring martyrs and acknowledging their sacrifice. The available listing identifies Hisham Younus in connection with Faris Club, but does not provide verified composer, lyricist, arrangement, or production credits.

← Browse
Aye Shaheedon Tumhara Ye Ahsan Hai

Aye Shaheedon Tumhara Ye Ahsan Hai

Nasheeds 7:18 2023
AI-Enriched95%

Story & Cultural Context

This is an Urdu patriotic nasheed honoring martyrs and acknowledging their sacrifice. The available listing identifies Hisham Younus in connection with Faris Club, but does not provide verified…

Titles in Other Languages

العربيةاے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
EnglishO Martyrs, This Is Your Favor

Lyrics

اے شہیدوں تمہیں سلام
تمہیں سلام
اے شہیدوں
اے شہیدوں
اے شہیدوں
تمہیں سلام
اے شہیدوں
تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
زخم سہتے رہے بڑی دیر تک
آج بدلہ چکانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
تھی گھٹن قید فرنگ کی اس قدر
سب ہمارے قوامن جمد ہو گئے
تم نے بخشے ہے جب سے ہمیں حوصلے
ہم جگر آزم آنے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
جب سے غلبہ قوت اور خلافت چھوٹی
دل گرفتار تھے اور غم زدہ تھے بہت
تم کو دیکھا تو جذبے مچلنے لگے
اور ہم مسکرانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
زخم سہتے رہے بڑی دیر تک
آج بدلہ چکانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
یہ تمہارے ہی جذبوں کی تاثیر تھی
جس نے ہم بے قصوں کو قوی کر دیا
داغ زلط غلامی کے ہیں آج جو
ان کو اب ہم مٹانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
تم نے اپنے لہو سے جلائی تھی جو
مشعل اُن ستاری کیا چٹ گئی
تم نے اپنے لہو سے جلائی تھی جو
مشعل اُن ستاری کیا چٹ گئی
بند آنے لگے دور چٹنے لگے
ہم بھی محفل سجانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
زخم سہتے رہے بڑی دیر تک
آج بدلہ چکانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
یہ تمہارے لہو کا ہی یہ جاز ہے
جس نے انور عطا کی ہے بیداریاں
یہ تمہارے لہو کا ہی یہ جاز ہے
جس نے انور عطا کی ہے بیداریاں
صرف اتنا نہیں آج جاگے ہیں ہم
قوم کو بھی جگانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
زخم سہتے رہے بڑی دیر تک
آج بدلہ چکانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے