Skip to main content
Ek Sitara Tha Main Khkashan Hogaya cover art

Ek Sitara Tha Main Khkashan Hogaya

by Faris Club

Album: Nasheeds

Duration: 4:50

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed performed by Faris Club, built around the poetic image of a star becoming a galaxy. Publicly verifiable information about its lyrical source, production, and original release context is not available.

← Browse
Ek Sitara Tha Main Khkashan Hogaya

Ek Sitara Tha Main Khkashan Hogaya

AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed performed by Faris Club, built around the poetic image of a star becoming a galaxy. Publicly verifiable information about its lyrical source, production, and original release…

Titles in Other Languages

EnglishI Was a Star; I Became a Galaxy

Lyrics

ایک ستارہ تھا میں کہکشاں ہو گیا
حبِ عزہ کا ایک استعارہ تھا میں داستان ہو گیا
میرا نام آیا امال سمجھو ذرا روشنی ہی تو ہے
میرا لاشا ہے پا مال دیکھو ذرا زندگی ہی تو ہے
ہاں یہی زندگی ہے میرے دوستوں میں نے سوچا تھا یہ کرنا دینِ مبی پر یہ ہوتی فدا
اور کس کام آنی تھی یہ زندگی اور پھر یہ ہوا قید دنیا سے جب میں نکلنے لگا
بندگی کا سفر جب میں طے کر چکا میں نے دھیلے سے یہ ساتھیوں سے کہا
میں شہید اب ہوا بھی گواہ ایک کرم زبان پر میری لمحہِ واپسی خود رواں ہو گیا
ایک ستارہ تھا میں کہکشاں ہو گیا
میرا انداز پاس وفا یہ رہا تاکِ دل پہ صدا
شوقِ جنت کی شما فروزہ رہی دل تو دل ہی تھا زخم اس نے کھانے ہی دے
روح لیکن میری پھر بشاد آ رہی میرے مالک نے مجھے کو بھری بزم میں اس طرح سے چنا
غازیوں کی طویل ایک فہرےس میں فردرہاں مت سے روشاً نشا کر دیا نورِ قرآنہ کو میرا بیان کر دیا
حبِ احمد مرتے بول لسا کر دیا طے کرے خاک تھا خواب میں جب ملا رحمتِ حق تعالیٰ سے مسکن میرا اسماں ہو گیا
ساتھیوں زخم سینے پہ کھاتے چلو رب سے ملنا ہے تو مسکراتے چلو
حبِ احمد کی شما جلاتے چلو تم نے سیکھا ہے جو کچھ سکھاتے چلو یوں تمہارے لیے بھی ہماری طرح شوق کی راہ کا وہ مقام آئے گا
حوزِ کوسر سے جب ان کی سرکار سے ہاں بڑے پیار سے پھر حلاوت بھرا ایک جام آئے گا خالقِ دو جہاں کا یہ نام آئے گا