
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be a motivational Urdu tarana performed or published by Faris Club. The title expresses an aspiration that every flower of one's garden be beautified or brought to excellence, suggesting themes of self-improvement, community, and positive action.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This appears to be a motivational Urdu tarana performed or published by Faris Club. The title expresses an aspiration that every flower of one's garden be beautified or brought to excellence,…
Titles in Other Languages
EnglishMay Every Flower of Our Garden Be Beautified
Lyrics
نکھارا جائے نکھارا جائے اپنا ہر ایک جوان نکھارا جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے عارضو ہے کہ اسے اور سوارا جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے حوصلے اپنے جوانوں کے تو ہیں خام ابھی ان کو ایمان کے بھٹی سے گزارا جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے عارضو ہے کہ اسے اور سوارا جائے نکھارا جائے نکھارا جائے اپنا ہر ایک جوان نکھارا جائے کاروان سے نہ بچھڑ پائے کوئی بھی رہ رو کوئی بھٹکے تو اسے پھر سے پکارا جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے عارضو ہے کہ اسے اور سوارا جائے نکھارا جائے نکھارا جائے اپنا ہر ایک جوان نکھارا جائے شوق پرواز جوان ہو تو فلک دور نہیں کہکشاں تک تو ہمارا بھی ستارہ جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے عارضو ہے کہ اسے اور سوارا جائے نکھارا جائے نکھارا جائے اپنا ہر ایک جوان نکھارا جائے کر کے سیراب وفاہوں کے لہوں سے انور جو بھی ہے قرض محبت کا اتارا جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے عارضو ہے کہ اسے اور سوارا جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے حوصلے اپنے جوانوں کے تو ہیں خام ابھی ان کو ایمان کے بھٹی سے گزارا جائے اپنے گلشن کا ہر ایک پھول نکھارا جائے عارضو ہے کہ اسے اور سوارا جائے نکھارا جائے نکھارا جائے اپنا ہر ایک جوان نکھارا جائے