Skip to main content
Kahin Bhi Zulm Ki Talwar cover art

Kahin Bhi Zulm Ki Talwar

by Faris Club

Album: Nasheeds

Duration: 4:43

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu motivational nasheed centered on resisting oppression, as indicated by the title “Kahin Bhi Zulm Ki Talwar.” No reliable public credits or documented release backstory could be verified for this specific Faris Club recording.

← Browse
Kahin Bhi Zulm Ki Talwar

Kahin Bhi Zulm Ki Talwar

AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu motivational nasheed centered on resisting oppression, as indicated by the title “Kahin Bhi Zulm Ki Talwar.” No reliable public credits or documented release backstory could…

Titles in Other Languages

العربيةکہیں بھی ظلم کی تلوار
EnglishWherever the Sword of Oppression

Lyrics

نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
محمد کی غلامی کا گلے میں طوق پہنا ہے
واللہ ہو احد اب چڑھ کے سولی پر بھی کہنا ہے
کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
ہم للکار قاسم ہیں ہم شمشیر حیدر ہیں
ہم دشمن کے سینے میں گھپا ایک تیز خنجر ہیں
نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
جلا دی ہم نے ساحل پر بھی اپنی کشتیاں ساری
کہ یہ سب کچھ نہیں اس راہ میں ہو جان بھی واری
کہ یہ سب کچھ نہیں اس راہ میں ہو جان بھی واری
کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
دعاوں گنے کی حق کی بات ہی چاہے وہ کٹ جائے
یہاں تک کہ ادعوے دین خود رستے سے ہٹ جائے
ہرگز نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
یہ سینے صورت فولاد ڈٹ جاتے ہیں ویڈا میں
خدا کہتا ہے خود بنیان مرسوس ان کو قرآن میں
کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
ہمیں نوشا ہے ہمیں اللہ کی تائید اسرت پر
غلامان محمد تو ہتھیلی پر لیے ہیں سر
نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
ہم پر مفر شیروں کی طرح سے ہم جھپٹتے ہیں
پلٹتے ہیں جھپٹتے ہیں جھپٹ کر پھر پلٹتے ہیں
کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے
اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے
ہرگز نہیں ڈرتے