
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu motivational nasheed centered on resisting oppression, as indicated by the title “Kahin Bhi Zulm Ki Talwar.” No reliable public credits or documented release backstory could be verified for this specific Faris Club recording.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu motivational nasheed centered on resisting oppression, as indicated by the title “Kahin Bhi Zulm Ki Talwar.” No reliable public credits or documented release backstory could…
Titles in Other Languages
العربيةکہیں بھی ظلم کی تلوار
EnglishWherever the Sword of Oppression
Lyrics
نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے محمد کی غلامی کا گلے میں طوق پہنا ہے واللہ ہو احد اب چڑھ کے سولی پر بھی کہنا ہے کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے ہم للکار قاسم ہیں ہم شمشیر حیدر ہیں ہم دشمن کے سینے میں گھپا ایک تیز خنجر ہیں نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے جلا دی ہم نے ساحل پر بھی اپنی کشتیاں ساری کہ یہ سب کچھ نہیں اس راہ میں ہو جان بھی واری کہ یہ سب کچھ نہیں اس راہ میں ہو جان بھی واری کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے دعاوں گنے کی حق کی بات ہی چاہے وہ کٹ جائے یہاں تک کہ ادعوے دین خود رستے سے ہٹ جائے ہرگز نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے یہ سینے صورت فولاد ڈٹ جاتے ہیں ویڈا میں خدا کہتا ہے خود بنیان مرسوس ان کو قرآن میں کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے ہمیں نوشا ہے ہمیں اللہ کی تائید اسرت پر غلامان محمد تو ہتھیلی پر لیے ہیں سر نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے ہم پر مفر شیروں کی طرح سے ہم جھپٹتے ہیں پلٹتے ہیں جھپٹتے ہیں جھپٹ کر پھر پلٹتے ہیں کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے اس تاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے ہرگز نہیں ڈرتے