
Genre: nasheed, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This is presented as a 2024 motivational nasheed associated with Faris Club and Jalabeeb Qadri. The available title information does not provide verified details about its lyrical subject, production context, or specific occasion.
← Browse

AI-Enriched85%
Featured Artists
Jalabeeb Qadri
Story & Cultural Context
This is presented as a 2024 motivational nasheed associated with Faris Club and Jalabeeb Qadri. The available title information does not provide verified details about its lyrical subject, production…
Titles in Other Languages
EnglishFidai
Lyrics
ہم فدائی راہِ اللہ کے ہم فدائی عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے مسلحت کی نام سے ماکف نہیں ہم طراروں ہے رہزناس کے جان و دل صدقے بے ہم تو دے چکے ہم وفا داروں کی دنیا اور ہے عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے مال و منسب کی تمنا چھوڑ کر لذت غم سے شناسا ہو چکے ہم کو غم میں ہی سلگنے دیجئے درد کے ماروں کی دنیا اور ہے عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے کل بدن لوگوں نے یہ سوچا نتھا کن چٹانوں سے وہ ٹکرانے چلے شیش محلوں کے مکینوں سے کہو پتھروں غاروں کی دنیا اور ہے عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے ترجمہ ہو تم تو ہر تاغوت کے آب شر سے ہے تمہاری دل لگی وہ جو پیتے ہیں صدا وحدت کی میں ایسے میخواروں کی دنیا اور ہے عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے حسن فانی کی فسوں کاری کہاں جلوہ جانا کی سرشاری کہاں ظلمتوں کی آرزو کچھ اور ہے تک نظاروں کی دنیا اور ہے عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے لذت آہوں فغا کیا چیز ہے راحت عشق سہلگاہی ہے کیا اند کے ماروں کو انور کیا خبر شب کے بیداروں کی دنیا اور ہے عیش و عشرت سے غرض ہم کو نہیں ہم فداکاروں کی دنیا اور ہے اس دلوں کو جرتوں کی کیا خبر تیر و تلواروں کی دنیا اور ہے