Skip to main content
Janbaaz Zara Dekh cover art

Janbaaz Zara Dekh

by Faris Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:18

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu motivational nasheed performed by Hassan Ahsani and published or distributed under the Faris Club name. The available metadata identifies the track as “Janbaaz Zara Dekh,” but does not provide verified credits, production details, or a documented occasion.

← Browse
Janbaaz Zara Dekh

Janbaaz Zara Dekh

AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu motivational nasheed performed by Hassan Ahsani and published or distributed under the Faris Club name. The available metadata identifies the track as “Janbaaz Zara Dekh,”…

Titles in Other Languages

EnglishBrave One, Just Look

Lyrics

امت کے غم میں ڈوبے مجاہد کو ذرا دیکھ اپنے لہو سے اس کا بدن بھیگا ہوا دیکھ راہِ خدا کے سختیوں میں اس کی وفا دیکھ پھر اس کی وفاؤں کا صلح اس کی جزا دیکھ کرتے ہیں وہ حبت تجھ سے یہ عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ اسلام کی عظمت کے شہباز ذرا دیکھ لا غالبہ الا اللہ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ پلکیں جو بچھاتے ہیں اس کی رحم ستارے لگتے ہیں اس کی رحم کو ملکوت نظارے جنت سے مسلسل اسے ہو بھی بکارے پھرتے ہیں اس کے ملت جنت کے مزادے اس پہ تو گرے یہ چاند و سورج بھی فدا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ پلکیں جو بچھاتے ہیں اس کی رحم ستارے لگتے ہیں اس کی رحم کو ملکوت نظارے جنت سے مسلسل اسے ہو بھی بکارے اس پہ تو گرے یہ چاند و سورج بھی فدا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ اس کی عادتوں نے تجھ پہ ایک سرکسی دا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ اسلام کی عظمت کے شہباز ذرا دیکھ لا غالبہ الا اللہ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ تکبیر مسلسل کی وہ دیتا ہے صدایں عشمت کو سے دیکھے تو چُراتے ہیں نگاہیں سو سے جگر سے اس کے تڑپتی ہے ہوایں شرم و حیاء سے چھپتی ہے اس کی تو نگاہیں اس کے بھی عطایں تو ہے بے شرم سے خدا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ کرتا ہے دشمنوں پہ جب کبھی بھی وہ یلغار رہتا ہے مستعد وہ کتنا رہتا ہے ہوشیار شاہی کی طرح جب دے گا جس تم وہ کرے وار بجلی کی طرح چمکے گی پھر اس کی وہ تلوار رب کے لیے لڑنے میں پھر اس کی ادا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ اسلام کی عظمت کے شہباز ذرا دیکھ لا غالبہ الا اللہ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ ایک دن کا شاہ سوار گروہ دین کا سپاہی اور رات کا تحجت گزار حق و راہی عشق خدا کی آگ بھی ہے اس کی جلاتی سجدوں سے کنارا ہی نہیں اس کو جدائی رب کے حضور سجدے میں سر اس کا جھکا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ اسمو یقین سے پل ہے اس کا نور سے چہرہ جذبات جنو تو اس کا سمندر سے ہے گہرا روتے ہیں اس نے باپ سے یہ کوہوے سہرا ہر راستوں پہ تھکے تو ہرگز نہیں ٹھہرا کیسے ہوا ہے راہ خدا میں وہ فنا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ اسلام کی عظمت کے شہباز ذرا دیکھ لا غالبہ الا اللہ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ سوئی ہوئی امت کو جگانے وہ چلا ہے مظلوم کو ظالم سے لڑانے وہ چلا ہے دشمن کے عزائم کو مٹانے وہ چلا ہے اپنے ہی لہو میں تنانے وہ چلا ہے اس کی ان کوششوں سے تو ہے دیں کی بقا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ ناصقِ صدا کا حکم ہے اعلان ہے اس کا مر جانا بھی اس بات پہ ارمان ہے اس کا اللہ ہوں گے راضی یہ ایمان ہے اس کا مظلوم امت پہ احسان ہے اس کا مانگی ہے یا زینِ صدا اس کی دعا دیکھ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ اسلام کی عظمت کے شہباز ذرا دیکھ لا غالبہ الا اللہ اے عرض پہ پھیرے ہوئے جانباز ذرا دیکھ