
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be a motivational Urdu nasheed presented by Faris Club and associated with Jalabeeb Qadri. Publicly available listing information identifies the work as “Jari Mujahid,” but does not provide verified credits, production details, or an explicit release context.
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Story & Cultural Context
This appears to be a motivational Urdu nasheed presented by Faris Club and associated with Jalabeeb Qadri. Publicly available listing information identifies the work as “Jari Mujahid,” but does not…
Lyrics
سر فروش مجاہد اللہ ہو اکبر! اللہ ہو اکبر! وہ دین حق کے جری مجاہد لہو میں اپنے نہا رہے ہیں وہ دین حق کی بقا کی خاطر سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں وہ بجلیاں بن کے آ رہے ہیں وہ آندیاں بن کے چھا رہے ہیں وہ رسم گاہوں میں دشمنوں کی صفحوں میں حل چل مچا رہے ہیں اللہ ہو اکبر! اللہ ہو اکبر! وہ دین حق کے جری مجاہد لہو میں اپنے نہا رہے ہیں وہ دین حق کی بقا کی خاطر سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں وہ طفرت توفاں کے بل مقابل ہوئے ہیں سینہ سپر بوگازی ہدو کے تیروں کے بل مقابل جگر کو وہ آسمارے رہے ہیں اللہ ہو اکبر! اللہ ہو اکبر! وہ دین حق کے جری مجاہد لہو میں اپنے نہا رہے ہیں وہ دین حق کی بقا کی خاطر سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں وہ سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں وہ آزمائش کی بھٹیوں سے نکل کے کندن میں ڈل رہے ہیں وہ امتحانوں کی وادیوں سے گزر کے بھی مسکورہ رہے ہیں اٹھا کے ہاتھوں میں حق کا پر چم وہ سوئے منزل آمدہ واہ ہے وہ ٹھکروں سے ہر ایک سنگے گراں دورا سے ہٹا رہے ہیں اللہ ہو اکبر! اللہ ہو اکبر! وہ دین حق کے جری مجاہد لہو میں اپنے نہا رہے ہیں وہ دین حق کی بقا کی خاطر سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں ہواں ہے کو تند تیز لیکن وہ مہوے پرواز ہے مسلسل ہواں ہے کو تند تیز لیکن وہ مہوے پرواز ہے مسلسل یہ خاک بازی وہ چھوڑ کر اب وہ شاہ بازی دکھا رہے ہیں اللہ ہو اکبر! اللہ ہو اکبر! وہ دین حق کے جری مجاہد لہو میں اپنے نہا رہے ہیں وہ دین حق کی بقا کی خاطر سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں وہ مثل انجم مہتابہ وہ ظلمتوں میں چمک رہے ہیں وہ مثل انجم مہتابہ وہ ظلمتوں میں چمک رہے ہیں وہ چاک کر کے نغید صبحاں سنا رہے ہیں اللہ ہو اکبر! اللہ ہو اکبر! وہ دین حق کے جری مجاہد لہو میں اپنے نہا رہے ہیں وہ دین حق کی بقا کی خاطر سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں وہ لہو کے کتروں سے کر رہے ہیں وہ راہ حق کو اگر معاقر اسی لہو سے مگر وہ ہر سو بپرتا توبہ اٹھا رہے ہیں وہ نسرت کا ابھرے گا ہواں میں لہرا چل رہے ہیں گینک پتے دشمنانے دی کو وہ خاک میں اب ملا رہے ہیں یہ دین حق کے عظیم غازی ہے فخر امت کا اہجازی یہ دین حق کے عظیم غازی ہے فخر امت کا اہجازی یہ دین حق کے عظیم غازی ہے فخر امت کا اہجازی یہ دین حق کے عظیم غازی ہے فخر امت کا اہجازی جارا امت کو کفر کی آندیوں سے اب وہ بچا رہے ہیں اللہ ہو اکبر اللہ ہو اکبر وہ دین حق کے جری مجاہد لہو میں اپنے نہا رہے ہیں وہ دین حق کی بقا کی خاطر سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں سروں کی فصلیں کتا رہے ہیں