
Genre: nasheed, munshidYear: 2025Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu motivational nasheed associated with Faris Club and Waseem Muavia, centered on the phrase “Nasheeb-e-Duniya Se Wo Nikal Kar.” Publicly available metadata identifies it as a 2025 release or upload, but does not provide verified composition, arrangement, instrumental, or…
← Browse

AI-Enriched85%
Featured Artists
Waseem Muavia
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu motivational nasheed associated with Faris Club and Waseem Muavia, centered on the phrase “Nasheeb-e-Duniya Se Wo Nikal Kar.” Publicly available metadata identifies it as a…
Titles in Other Languages
EnglishMotivational Nasheed 2025 - Jundullah - Emerging from the World’s Lowlands
Lyrics
جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں وہ ابتلا کی ہر ایک وادی سے مسکرا کر گزر رہے ہیں وہ آزمائش کی بھٹیوں سے بمثل کنزن اُبر رہے ہیں عدو کے تیروں کے بل مقابل جگر کو وہ آزما رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں سروں پہ اپنے کفن وہ باندے وفا کی راہوں پہ چل پڑے ہیں کوریزم گاہوں میں دشمنوں کی سفوں کے آگے مگر کھڑے ہیں وہ کربلا میں حسین بن کر سروں کی فصلیں کٹا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں صداقتوں کے علم اٹھائے وہ سوئے منزل روا دواں ہیں شہادتوں کیلئے تمنا وہ طالبِ ہور جنتاں ہیں وفا کی راہوں پہ جان لٹا کر وہ فرض اپنا نبھا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں وہ خاک راہ وفا کو اپنے لہو سے مہکا رہے ہیں ہر سو انہی کے پاکیزہ اس لہو سے جہاں میں پھیلی ہے تازہ خوشبو یہ دینِ حق کے جری مجاہد لہو جگر کا بہا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں زمانے بھر سے علج رہے ہیں ہوا کا رخ وہ بدل رہے ہیں وہ عظم و ہمت وفا کے پیکر یقین کے رستے پہ چل رہے ہیں وہ حیبت و فان کی حشر سامانیوں میں بھی مسکرا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں وہ ایک رب سے ہیں ڈرنے والے انہیں کہاں ڈر کسی عدو کا چکا رہے ہیں وہ کرز مظلوم کے بہائے گئے لہو کا وہ حق کا پرچم اٹھانے والے غرور باطل مٹا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں تمہارے دل میں بھی اے حجازین یہی تمنا مچل رہی ہے قلم سے نکلی ہوئی سیاہی لہو کے خطروں میں ڈھل رہی ہے تمہارے اشوار غازیوں کے دلوں میں توفاں اٹھا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں جنداللہ جنداللہ جنداللہ جنداللہ نشےب دنیا سے وہ نکل کر فراز کی اور جا رہے ہیں قدم خروں سے نکال کر منزلوں کی جانب بڑھا رہے ہیں اتر کے گم نام ساحلوں پر وہ کشتیوں کو جلا رہے ہیں ہرے بھرے موسموں کے نغمے خضا کی رتبے سنا رہے ہیں