
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
“Pegham E Shuhada” translates approximately as “Message of the Martyrs.” Based on its title and presentation as an emotional nasheed, the track appears to honor and reflect on the sacrifices of martyrs, but a verified official backstory was not found.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
“Pegham E Shuhada” translates approximately as “Message of the Martyrs.” Based on its title and presentation as an emotional nasheed, the track appears to honor and reflect on the sacrifices of…
Titles in Other Languages
العربيةپیغامِ شہداء
EnglishMessage of the Martyrs
Lyrics
جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے قسمت کے افق پر ادھر اُبھری تھی صفیدی ملبوس ادھر میرا شفق رنگ ہوا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے اک روح کے جو خلد کے ہے عیش و طرب میں اک جسم کے زخموں کے مزے لوٹ رہا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے پھر لوٹ کے جانے کی تمنا ہے زمین پر پھر عارض و رسم کا ہے صبر و رضا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے پھر شوق ہے زخموں سے میں زینت دو بدن کو پھر ذات طلب خون سے نہانے پہ تُلا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے نظریں تو بظاہر میری ہوروں پہ لیکن دل خالق ہوران بہشتی پہ فدا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے زندوں کو ہے پیغام جو زندہ میں ہے اب تک آزاد جو ہونا ہے تو میدان کھلا ہے میدان کھلا ہے میدان کھلا ہے سو جان بھی گر تم کو عطا ہو تو سمجھ لو سو جان لٹانے کا جو مرکز ہے خدا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے جو زیست پہ مرتے ہیں بتا دو نتائب مرنے کے لیے جینے میں جینے کا مزا ہے اب میں ہوں میری قبر ہے رنگی دباہ ہے جان ہار کے دل اپنا ہی خود جیت لیا ہے