Skip to main content
Nabi K Gulshan cover art

Nabi K Gulshan

by Faris Club

Album: Nasheeds

Duration: 9:29

Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu naat praising and expressing love for the Prophet Muhammad, presented as an emotional vocal performance by Faris Club. Publicly available metadata does not establish the original poet, melody composer, arrangement, or production details.

← Browse
Nabi K Gulshan

Nabi K Gulshan

AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu naat praising and expressing love for the Prophet Muhammad, presented as an emotional vocal performance by Faris Club. Publicly available metadata does not establish the…

Titles in Other Languages

العربيةنبی کا گلشن
EnglishThe Prophet’s Garden

Lyrics

نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
جو پھر سے اس کے گلو میں لائیں
غزب کرم گوری خار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
بی پھرتے طوفاں کی زد میں مولا
نبی کے امت کا ہے سفینہ
تو اپنے فضل و کرم سے اس کو
کرا دے طوفاں سے پار مولا
مولا مولا مولا مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
گری ہے تحت سارا میں امت
نا جانے کب سے اے میرے مولا
نکال کر پستیوں سے اس کو
فلک سے کر ہم کنار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
ہمیں عطا کر مقام رفوت
ہمیں عطا کر تو پھر سے عظمت
کہ ہم زبون حال ہیں جہاں میں
کہ ہم ہیں صدیوں سے خار مولا
مولا مولا مولا مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
یہ غم کی شب ہے طویل مولا
سہر کو اب تو قریب کر دے
ہمیں تو غم کی شبے سیاہ میں
سہر کا دے انتظار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
بہار آتا نہیں ہے مجھ کو
سکون سے دل ہو گیا ہے خالی
کہ حال امت کو دیکھ کر میں
ہوا ہوں اب دل فگار مولا
مولا مولا مولا مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
جنوں کی چنگاریاں دبی ہیں
میرے دیدے مزترب میں کب سے
بنا کے ان کو جنون جولا
تو کر انہیں شولا بار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
میں آزماء عشق وادیوں سے
کبھی جو گزروں اے میرے مولا
مجھے تو باپک لے کے ان کو
کروں میں مسکاں کے پار مولا
مولا مولا مولا مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
مجھے وہ منزل کی جوستو جو سے
نہ روک پائے اے میرے مولا
جو راہ میں سنگے گراں ہیں ہائل
جو راہ میں بکھرے ہیں خوار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
مجھے تو بیدار دل دے ایسا
تو مجھ کو شوری دا سر دے ایسا
کسی کے مکر و فریب کا پھر
نہ ہو سکوں میں شکار مولا
مولا مولا مولا مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
کسی کے آگے جھکے نہ ہر کس
تیرے سوا یہ جبین میری
میرے بدن پہ کھڑا رہے
صدا سر پر وقار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
مجھے بھی توفیق دے اے مولا
بنو میں حق کا جری سپاہی
تو حق کو باطل کے مار کے کا
بنا مجھے شاہ سوار مولا
مولا مولا مولا مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
نہ روک پائے مجھے اے مولا
کوئی سمندر کوئی بیا با
میں روند کر جاؤں تیری راہ میں
یہ دشت اور کوہ سار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
وہ دور فصل بہار مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
یہ ہے دعا دلِ حجازی
ملے تیرے دی کو سرفرازی
جب ہی تو یوں بے قرار ہو کر
ہوا ہوں میں عشق بار مولا
مولا مولا مولا مولا
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے