
Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu naat praising and expressing love for the Prophet Muhammad, presented as an emotional vocal performance by Faris Club. Publicly available metadata does not establish the original poet, melody composer, arrangement, or production details.
← Browse

AI-Enriched70%
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu naat praising and expressing love for the Prophet Muhammad, presented as an emotional vocal performance by Faris Club. Publicly available metadata does not establish the…
Titles in Other Languages
العربيةنبی کا گلشن
EnglishThe Prophet’s Garden
Lyrics
نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا جو پھر سے اس کے گلو میں لائیں غزب کرم گوری خار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا بی پھرتے طوفاں کی زد میں مولا نبی کے امت کا ہے سفینہ تو اپنے فضل و کرم سے اس کو کرا دے طوفاں سے پار مولا مولا مولا مولا مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے گری ہے تحت سارا میں امت نا جانے کب سے اے میرے مولا نکال کر پستیوں سے اس کو فلک سے کر ہم کنار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا ہمیں عطا کر مقام رفوت ہمیں عطا کر تو پھر سے عظمت کہ ہم زبون حال ہیں جہاں میں کہ ہم ہیں صدیوں سے خار مولا مولا مولا مولا مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے یہ غم کی شب ہے طویل مولا سہر کو اب تو قریب کر دے ہمیں تو غم کی شبے سیاہ میں سہر کا دے انتظار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے بہار آتا نہیں ہے مجھ کو سکون سے دل ہو گیا ہے خالی کہ حال امت کو دیکھ کر میں ہوا ہوں اب دل فگار مولا مولا مولا مولا مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے جنوں کی چنگاریاں دبی ہیں میرے دیدے مزترب میں کب سے بنا کے ان کو جنون جولا تو کر انہیں شولا بار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے میں آزماء عشق وادیوں سے کبھی جو گزروں اے میرے مولا مجھے تو باپک لے کے ان کو کروں میں مسکاں کے پار مولا مولا مولا مولا مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے مجھے وہ منزل کی جوستو جو سے نہ روک پائے اے میرے مولا جو راہ میں سنگے گراں ہیں ہائل جو راہ میں بکھرے ہیں خوار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے مجھے تو بیدار دل دے ایسا تو مجھ کو شوری دا سر دے ایسا کسی کے مکر و فریب کا پھر نہ ہو سکوں میں شکار مولا مولا مولا مولا مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے کسی کے آگے جھکے نہ ہر کس تیرے سوا یہ جبین میری میرے بدن پہ کھڑا رہے صدا سر پر وقار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے مجھے بھی توفیق دے اے مولا بنو میں حق کا جری سپاہی تو حق کو باطل کے مار کے کا بنا مجھے شاہ سوار مولا مولا مولا مولا مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے نہ روک پائے مجھے اے مولا کوئی سمندر کوئی بیا با میں روند کر جاؤں تیری راہ میں یہ دشت اور کوہ سار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے وہ دور فصل بہار مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے یہ ہے دعا دلِ حجازی ملے تیرے دی کو سرفرازی جب ہی تو یوں بے قرار ہو کر ہوا ہوں میں عشق بار مولا مولا مولا مولا مولا نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے نبی کے گلشن پہ پھر سے آئے