Skip to main content
Jo Dati Huwi Hain Mahaz Per cover art

Jo Dati Huwi Hain Mahaz Per

by Faris Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:09

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu motivational nasheed centered on steadfastness at the frontline, as suggested by the phrase “Jo Dati Huwi Hain Mahaz Per.” Publicly available metadata identifies Faris Club as the performing artist, but does not provide verified credits, production details, or a documented backstory.

← Browse
Jo Dati Huwi Hain Mahaz Per

Jo Dati Huwi Hain Mahaz Per

AI-Enriched70%

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

An Urdu motivational nasheed centered on steadfastness at the frontline, as suggested by the phrase “Jo Dati Huwi Hain Mahaz Per.” Publicly available metadata identifies Faris Club as the performing…

Titles in Other Languages

العربيةجو ڈٹی ہوئی ہیں محاذ پر
EnglishThose Who Stand Firm on the Frontline

Lyrics

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

نہ اسیر گمبد شاہ کا نہ فقیر حسنِ نکاح کا
نہ حصیر تاج و پناہ کا نہ مرید تو نہ تو جاہ کا
نہ سکندری سے کوئی غرض نہ مریض خوفِ صفاہ کا
نہ مفاکروں میں شمار کر نہ مناظروں میں تلاش کر
جو لگی ہوئی ہے محاصل پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

ابھی شوق ہے میرا نا رسا ابھی نیم رس میرا میکدہ
ہے حنین و بدر کے راستے کہیں تیشنہ گی کہیں کربلا
میرے سر گرے تری راہ میں یہی آرزو یہی التجا
وہ جو شب سے بڑھ سر جنگ ہیں انہی جبوں میں تلاش کر جو لگی ہوئی ہے محاصل پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تیرے راستوں میں قدم قدم جو لہو کے نقش و نگار ہیں
تیری چاہ ہے تیرا شوق ہے تیرا عشق ہے تیرا پیار ہے
مجھے خوفِ طول سفر نہیں کہاں منزل ہے کہاں دار ہے
کبھی خیبروں میں تلاش کر کبھی حیدروں میں تلاش کر
جو لگی ہوئی ہے محاصل پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

نہ اسیر گمبد شاہ کا نہ فقیر حسنِ نکاح کا
نہ حصیر تاج و پناہ کا نہ مرید تو نہ تو جاہ کا
نہ سکندری سے کوئی غرض نہ مریض خوفِ صفاہ کا
نہ مفاکروں میں شمار کر نہ مناظروں میں تلاش کر
جو لگی ہوئی ہے محاصل پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تیری چوست جوت تیری آرزو تیری بندگی میری آبرو
ہے حقیر قطرہ یاں پہ چو تو ہی یم بہ یم تو ہی جوف جو
ہے پیام تیرا ہی بو بہ کو ہے نظام تیرا ہی چار سو
مجھے مسلنے کے حدِ گل کہیں تیری خوشبو میں تلاش کر
جو لگی ہوئی ہے محاصل پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

اس حسنِ قلب سوہے پدے اس سوز روحِ بیدال دے
وہ یقین تھے وہ کمال تھے وہ عظیم تو کی مثال دے
جو فراز دار ہو سامنے تو حجوم شوقِ وصال دے
میں ہوں تیرا بزمیِ ناتواہ تیرے مجرموں میں تلاش کر
جو لگی ہوئی ہے محاصل پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

نہ اسیر گمبد شاہ کا نہ فقیر حسنِ نکاح کا
نہ حصیر تاج و پناہ کا نہ مرید تو نہ تو جاہ کا
نہ سکندری سے کوئی غرض نہ مریض خوفِ صفاہ کا
نہ مفاکروں میں شمار کر نہ مناظروں میں تلاش کر
جو لگی ہوئی ہے محاصل پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر

تلاش کر تلاش کر مجھے ان صفوں میں تلاش کر