
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu nasheed by Faris Club whose title expresses longing for the arrival of a fresh spring or renewed hope. Publicly available track information identifies the performance, but does not provide reliable credits, production details, or a documented backstory.
← Browse

AI-Enriched70%
Story & Cultural Context
This is an Urdu nasheed by Faris Club whose title expresses longing for the arrival of a fresh spring or renewed hope. Publicly available track information identifies the performance, but does not…
Titles in Other Languages
العربيةبہارِ تازہ کب آئے گی تُو
EnglishWhen Will You Come, O Fresh Spring?
Lyrics
خزاں کا موسم گزر چکا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے میرا لہو اب شفق کی صورت ہر ایک افق پر چمک رہا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے میں کوہساروں کی سرزمین کو لہو سے سیراب کر چکا ہوں میں کامیابی سے آزمائش کی بھٹیوں سے گزر چکا ہوں شہید ہو کے نکھر چکا ہوں بشکل خوشبو بکھر چکا ہوں میں کمیونسٹوں کے دل میں تیرے خزاں کی صورت اتر چکا ہوں وہ بت جو تھا عشق تیرا کیت کا نشان اس کا مٹا دیا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے میرا لہو اب شفق کی صورت ہر ایک افق پر چمک رہا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے جو کاتتی تھی سروں کی فصلیں دراندی میں نے وہ توڑ دی ہے خیزربکاری ہتھوڑے والی وہ زرب دشمن کو موڑ دی ہے جو میری عزت پہ حملہ کش تھے کلائی ان کی مروڑ دی ہے اٹھی جو تھی دین حق کی جانب وہ چشم گستاخ پھوڑ دی ہے خدا ہی دعوے جو کر رہے تھے انہی کو درس فنا دیا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے میرا لہو اب شفق کی صورت ہر ایک افق پر چمک رہا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے وہی جو تھے وسعتوں کے خوگر وہ اپنے دل میں سمٹ چکے ہیں تھا اپنی طاقت پہ ناز جن کو وہ برج سارے الٹ چکے ہیں تھا جن کا منشور پیش قدمی وہ گھر کو واپس پلٹ چکے ہیں جو بیج بوتے تھے نفرتوں کے وہ خود ہی ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں میرے عمل نے غلام قوموں کو حریت کا سبق دیا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے میرا لہو اب شفق کی صورت ہر ایک افق پر چمک رہا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے بہار تازہ کب آئے گی تو خزاں کا موسم گزر چکا ہے