Skip to main content
Bahar Taza Kab Aayegi Tu cover art

Bahar Taza Kab Aayegi Tu

by Faris Club

Album: Nasheeds

Duration: 5:51

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This is an Urdu nasheed by Faris Club whose title expresses longing for the arrival of a fresh spring or renewed hope. Publicly available track information identifies the performance, but does not provide reliable credits, production details, or a documented backstory.

← Browse
Bahar Taza Kab Aayegi Tu

Bahar Taza Kab Aayegi Tu

AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

This is an Urdu nasheed by Faris Club whose title expresses longing for the arrival of a fresh spring or renewed hope. Publicly available track information identifies the performance, but does not…

Titles in Other Languages

العربيةبہارِ تازہ کب آئے گی تُو
EnglishWhen Will You Come, O Fresh Spring?

Lyrics

خزاں کا موسم گزر چکا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
میرا لہو اب شفق کی صورت
ہر ایک افق پر چمک رہا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
میں کوہساروں کی سرزمین کو
لہو سے سیراب کر چکا ہوں
میں کامیابی سے آزمائش
کی بھٹیوں سے گزر چکا ہوں
شہید ہو کے نکھر چکا ہوں
بشکل خوشبو بکھر چکا ہوں
میں کمیونسٹوں کے دل میں تیرے
خزاں کی صورت اتر چکا ہوں
وہ بت جو تھا عشق تیرا کیت کا
نشان اس کا مٹا دیا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
میرا لہو اب شفق کی صورت
ہر ایک افق پر چمک رہا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
جو کاتتی تھی سروں کی فصلیں
دراندی میں نے وہ توڑ دی ہے
خیزربکاری ہتھوڑے والی
وہ زرب دشمن کو موڑ دی ہے
جو میری عزت پہ حملہ کش تھے
کلائی ان کی مروڑ دی ہے
اٹھی جو تھی دین حق کی جانب
وہ چشم گستاخ پھوڑ دی ہے
خدا ہی دعوے جو کر رہے تھے
انہی کو درس فنا دیا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
میرا لہو اب شفق کی صورت
ہر ایک افق پر چمک رہا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
وہی جو تھے وسعتوں کے خوگر
وہ اپنے دل میں سمٹ چکے ہیں
تھا اپنی طاقت پہ ناز جن کو
وہ برج سارے الٹ چکے ہیں
تھا جن کا منشور پیش قدمی
وہ گھر کو واپس پلٹ چکے ہیں
جو بیج بوتے تھے نفرتوں کے
وہ خود ہی ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں
میرے عمل نے غلام قوموں
کو حریت کا سبق دیا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
میرا لہو اب شفق کی صورت
ہر ایک افق پر چمک رہا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے
بہار تازہ کب آئے گی تو
خزاں کا موسم گزر چکا ہے