Skip to main content
Kabhi Mayoos Mat Hona cover art

Kabhi Mayoos Mat Hona

by Junaid Ur Rahman

Album: Nasheeds

Duration: 9:14

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

“Kabhi Mayoos Mat Hona” translates roughly as “Never Lose Hope” and appears to be an Islamic devotional nasheed centered on encouragement and perseverance. Publicly available identifying information does not establish specific composition credits, instrumentation, or a documented release occasion.

← Browse
Kabhi Mayoos Mat Hona

Kabhi Mayoos Mat Hona

AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

“Kabhi Mayoos Mat Hona” translates roughly as “Never Lose Hope” and appears to be an Islamic devotional nasheed centered on encouragement and perseverance. Publicly available identifying information…

Titles in Other Languages

EnglishNever Lose Hope

Lyrics

کبھی مایوس مت ہونا امیدوں کے سمندر میں طلا تم آتے رہتے ہیں سفینے ڈوبتے بھی ہیں سفر لیکن نہیں رکھتا مسافر ٹوٹ جاتے ہیں مگر منزل نہیں چھکتا سفر تہوں کے رہتا ہے کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو خدا واقف ہے نازر بھی خدا ظاہر ہے باطن بھی وہی ہے حال سے واقف وہی سینوں کے اندر بھی مصیبت کے اندھیروں میں تمہیں گرنے نہیں دے گا کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو کبھی تم مانگ کر دیکھو تمہاری آنکھ کے آنسوں یوں ہی ڈھلنے نہیں دے گا تمہاری آس کی گانگر کبھی گرنے نہیں دے گا ہوا کتنی مخالف ہوا تمہیں مڑنے نہیں دے گا کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو وہاں انصاف کی چکی ذرا دیرے سے چلتی ہے مگر چکی کے پاٹھوں میں بہت باریک پستا ہے تمہارے ایک کا بدلہ وہاں ستر سے زیادہ ہے نیت تلتی ہے پلڑوں میں کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو وہاں جو ہاتھ اٹھتے ہیں کبھی خالی نہیں آتے ذرا سی دیر لگتی ہے مگر وہ دیکھ رہتا ہے ذرا سی دیر لگتی ہے مگر وہ دیکھ رہتا ہے ہاں وہ دیکھ رہتا ہے کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو دری تا دام نوکوں کو رفع کرتا ہے رحمت سے اگر کشکول ٹوٹا ہو تو وہ بھرتا ہے نعمت سے کبھی عیوب کی خاطر زمیں جسمہ اُبلتی ہے کہیں یوں نہ اس کے ہونٹوں پر اگر فریاد اٹھتی ہے کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو تمہارے دل کی ٹیسوں کو یوں ہی دکھنے نہیں دے گا تمنا کا دیا یاروں کبھی بجھنے نہیں دے گا کبھی وہ آس کا دریا کہیں رکنے نہیں دے گا کہیں تھمنے نہیں دے گا کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو جب اس کے رحم کا ساگر چھلک کے جوش کھاتا ہے کہر ڈھاتا ہوا سورج یکا یک کام پچاتا ہے ہوا اٹھتی ہے لہرا کر گھٹا سجدے میں گرتی ہے جہاں درتی ترستی ہے وہی رحمت برستی ہے وہی رحمت برستی ہے کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو ترستے رگزاروں پر عبر بہکے ہی رہتا ہے نظر وہ اٹھ کے رہتی ہے کرم ہو کے ہی رہتا ہے امیدوں کا چمکتا دن امر ہوکے ہی رہتا ہے کبھی مایوس مت ہونا اندھیرہ کتنا گہرا ہو اندھیرہ کتنا گہرا ہو اندھیرہ کتنا گہرا ہو کبھی مایوس مت ہونا