
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
Ek Sadaa by Bilal Iqbal is a nasheed that likely praises Islamic themes, blending Urdu and English languages. It is part of his singles, possibly focusing on devotion and spirituality, though specific details are limited.
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
Ek Sadaa by Bilal Iqbal is a nasheed that likely praises Islamic themes, blending Urdu and English languages. It is part of his singles, possibly focusing on devotion and spirituality, though specific…
Titles in Other Languages
EnglishEk Sadaa (translated as 'One Call' or similar, based on context)
Lyrics
میرے دل کی یہ جسدہ ہے میرے مولا کو پتہ ہے جانے کیا یہ مجھ کو ہو گیا جب بھی ان کو یاد کروں میں فورن ان کی ناک پڑھوں میں میں تو اسی پل کھو گیا میری سن لے ارض خدا تو سنتا ہے سبی کی دعا تو میرے ہونٹوں پہ صدا ان کی بات ہو مجھ کو نات نبی کا ہوا یوں اثر نہ رہی اب مجھے تو کسی کی حبہ اے میرا دل ہو گیا میرا چین گیا جب سے آقا کی مجھ پہ پری کے نظر دل کی ہے عارضو میں بن ستے اور مو تیرے ہی دربے آقا میرا ہرے گزر مولا علی کا ہے ورد میرے لبے مولا حسن میرے حسین میرا نظر ان کا پیار رہے میرے دل میں صدا ہر گھرانوں سے عالی ہے ان کا گر مجھ کو نات نبی کا ہوا یوں اثر نہ رہی اب مجھے تو کسی کی حبہ میرا دل ہو گیا میرا چین گیا جب سے آقا کی مجھ پہ پری کے نظر عشق نبی میں یوں خود میں یوں کھو جاؤں دل میں مدینے کی ہو ایسی ترپ جگی آقا بلائیں گے میرا ہے یہ یقین آنکھوں میں میرے ہر پل مدینے کی جلی طفلاں نصیبہ ہو تیرا ہو درودوں سے روشن تیری قبر مجھ کو نات نبی کا ہوا یوں اثر نہ رہی اب مجھے تو کسی کی حبہ میرا دل ہو گیا میرا چین گیا جب سے آقا کی مجھ پہ پری کے نظر