
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
This track appears to be a traditional nasheed by Rao Brothers, likely focusing on themes of faith and devotion based on its title, which translates to something related to misunderstanding the divine court. It is part of their singles collection and reflects common Islamic poetic expressions in…
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This track appears to be a traditional nasheed by Rao Brothers, likely focusing on themes of faith and devotion based on its title, which translates to something related to misunderstanding the divine…
Titles in Other Languages
EnglishThe Ignorant Think They Can Overthrow the Court
Lyrics
ہر دل میں صدا خواجہ تیرا پیار رہے گا دربار تھا دربار ہے دربار رہے گا نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے ناپاک سطح صدقے سب ساتھ تفن ہوں گے ہم ان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے یہاں ہندو مسلمان سکھ خواجہ کے دیوانے وہ شم میں محبت ہے سب ان کے پروانے یہاں ہندو مسلمان سکھ خواجہ کے دیوانے وہ شم میں محبت ہے سب ان کے پروانے خواجہ کی محبت میں ہم جان لٹا دیں گے ہم ان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے ہر دل میں صدا خواجہ تیرا پیار رہے گا دربار تھا دربار ہے دربار رہے گا جو توڑے گا خواجہ کے دربار کو آئے گا ہرگز وہ نکل کر پھر واپس نہیں جائے گا جو توڑے گا خواجہ کے دربار کو آئے گا ہرگز وہ نکل کر پھر واپس نہیں جائے گا ہم کیا کر سکتے ہیں یہ ان کو بتا دیں گے ہم ان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے سلطان مدینہ نے خود ہند میں بھیجا ہے اور ہند کی دھرتی کا سلطان بنایا ہے سلطان مدینہ نے خود ہند میں بھیجا ہے اور ہند کی دھرتی کا سلطان بنایا ہے تنچان زمانا پھر کیا ان کا بھی گاریں گے ہم ان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے اے ظالم تم سن لو یہ خواجہ کے شہدائی اس ظالم جابر سے ڈرتے ہی نہیں کوئی اے ظالم تم سن لو یہ خواجہ کے شہدائی اس ظالم جابر سے ڈرتے ہی نہیں کوئی سامنے آ جاؤ سر تن سے اڑا دیں گے ہم ان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے ہر دل میں صدا خواجہ تیرا پیار رہے گا دربار تھا دربار ہے دربار رہے گا اجمیر کی صدقے ہی آباد ہے ہندوستان اجمیر کے خواجہ سے ہم کو ہے ملا ایمان اجمیر کی صدقے ہی آباد ہے ہندوستان اجمیر کے خواجہ سے ہم کو ہے ملا ایمان ہم اس کی حفاظت میں چاندھ لٹا دیں گے ہم ان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے خواجہ کی دیوانوں کا ظالم سے ہے یہ کہنا ناپاک ارادوں کو وہ ترک کرے ورنہ خواجہ کی دیوانوں کا ظالم سے ہے یہ کہنا ناپاک ارادوں کو وہ ترک کرے ورنہ اے شوق باری دی ہم بہرام مچا دیں گے ہم ان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیں گے نادان سماجتے ہیں مندر وہ بنا دیں گے اجمیر میں خواجہ کا دربار گرا دیں گے ہر دل میں صدا خواجہ تیرا پیار رہے گا دربار تھا دربار ہے دربار رہے گا