Skip to main content
Ghamon Ki Dastan cover art

Ghamon Ki Dastan

by Rao Brothers

Album: Nasheeds

Duration: 6:51

Genre: nasheed, naatYear: 2021Type: nasheed

Story & Cultural Context

'Ghamon Ki Dastan' is an Urdu emotional nasheed/kalam performed by the duo Rao Brothers. It expresses spiritual grief, seeking solace, and turning to divine mercy amidst worldly sorrow and trials.

← Browse
Ghamon Ki Dastan

Ghamon Ki Dastan

Nasheeds 6:51 2021
AI-Enriched75%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →
Instruments
vocal-only

Story & Cultural Context

'Ghamon Ki Dastan' is an Urdu emotional nasheed/kalam performed by the duo Rao Brothers. It expresses spiritual grief, seeking solace, and turning to divine mercy amidst worldly sorrow and trials.

Titles in Other Languages

EnglishStory of Sorrows

Lyrics

غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، لگے ہیں داغ جو دل پر دکھانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، ہمارے کیمتی اشک کو تو یا رب فوق فرما، یہ موتی آئینہ نے پر لٹانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، ہوا کر کلب میں رکھے جوش کو گنظرانے، در اقدس پہ وہ مالا سجانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، دلِ بیتاب کروٹے لے جو یاد حق تعالیٰ میں، بہا کے مصطفیٰ بگڑی نانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، لگی ہے دھوم بڑے عرصے سے دربارِ مدینہ کی، باپیسے حق لگی دل کی بجھانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، دلِ نادان گھبرات جلد ہی بلائیں گے آقا، جب ہی کو اُن کے قدموں پر جھکانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، ہم سماں خاجا کاکی اور مریدو دین کے صدقے، وہ خاجا کے طبع چیزیں پر لگانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، تمناؤں میں تاہیر تمنہ ہے تو بس اتنی، در مہبوب پہ ناتے سنانے ہم بھی جائیں گے، غموں کی داستان ان کو سنا نے ہم بھی جائیں گے، ہم بھی جائیں گے۔