
Genre: nasheed, naatType: nasheed
Story & Cultural Context
A classic Urdu devotional Naat recited by renowned Pakistani Naat Khawan Al-Haj Siddique Ismail, known for his traditional vocal-only Naat performances. The title translates to 'The Seeker' or 'One Who Desires', reflecting themes of spiritual longing and devotion.
← Browse

AI-Enriched75%
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
A classic Urdu devotional Naat recited by renowned Pakistani Naat Khawan Al-Haj Siddique Ismail, known for his traditional vocal-only Naat performances. The title translates to 'The Seeker' or 'One…
Titles in Other Languages
EnglishTalab Gaar Hai
Lyrics
ناظرین اکرام، سامعین اکرام، یہ قلام پروفیسر اقبال عظیم مرہوم نے لکھا، اقبال عظیم کہ جن کا نات کہنے کا اپنا ہی ایک منفرد انداز کہ ظاہری بسارت سے محروم، فرماتے ہیں بسارت ہو بھئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے، میں نے یہ قلام تیس سال پہلے پڑا ہے، مجھے بڑی خوشی ہے کہ میرے بہت سے سلافہ، میرے بزرگار سب نے اس قلام کو میرے بعد پڑا، آج مجھ سے خاص طور پر ارماعش کی گئی ہے کہ اس قلام کو میں آج پھر ایک بار پڑھنے کی سعادت حاصل کروں، انشاءاللہ اقبال عظیم کا یہ قلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ گوروزائے اقدس کی طلبگار ہے آنکھیں، سچ پوچھو تو خود راہ کی دیوار ہے آنکھیں، اللہ حرے یہ جرت بے طاب نگاہی کہ بے نور ہے اور طالب دیدار ہے آنکھیں، سجدے بھی یہ کر لیتی ہیں جب چاہے یہ ہی سے، سجدے بھی یہ کر لیتی ہیں جب چاہے یہ ہی سے، ارے مجھ سے بھی چھپاتی ہیں پرسارار ہے آنکھیں، مجھ سے بھی چھپاتی ہیں پرسارار ہے آنکھیں، سچ پوچھو تو خود راہ کی دیوار ہے آنکھیں، اللہ حرے یہ جرت بے طاب نگاہی، اللہ حرے یہ جرت بے طاب نگاہی کہ بے نور ہے اور طالب دیدار ہے آنکھیں، بے نور ہے اور طالب دیدار ہے آنکھیں، ہر رات چلی جاتی ہے یہ چپکے سے مدینے، ہر رات چلی جاتی ہے یہ چپکے سے مدینے، مجھ سے بھی چھپاتی ہیں بڑی ہشیار ہیں آنکھیں، مجھ سے بھی چھپاتی ہیں پرسارار ہے آنکھیں، تیبہ نظر آ جائے تو یہ تاکِ حرم ہے، تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں، تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں، تیبہ نظر آ جائے تو یہ تاکِ حرم ہے، تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں، تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں، یہ نرگس شہلہ ہے گلستانِ حرم کی، یہ نرگس شہلہ ہے گلستانِ حرم کی، یہ کس نے کہا نرگس بیمار ہے آنکھیں، یہ کس نے کہا نرگس بیمار ہے آنکھیں، گوروزائے اقدس کی طلبگار ہے آنکھیں، سچ پوچھو تو خود راہ کی دیوار ہے آنکھیں، تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں۔