Skip to main content
Talab Gaar Hai cover art

Talab Gaar Hai

by Muhammad Siddique Ismail

Album: Singles

Duration: 9:24

Genre: nasheed, naatType: nasheed

Story & Cultural Context

The title translates to 'The Seeker' or 'One Who Desires', reflecting themes of spiritual longing and devotion.

← Browse
Talab Gaar Hai

Talab Gaar Hai

About this recordingAuto-generated
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

The title translates to 'The Seeker' or 'One Who Desires', reflecting themes of spiritual longing and devotion.

Titles in Other Languages

EnglishTalab Gaar Hai

Lyrics

ناظرین اکرام، سامعین اکرام، یہ قلام پروفیسر اقبال عظیم مرہوم نے لکھا، اقبال عظیم کہ جن کا نات کہنے کا اپنا ہی ایک منفرد انداز کہ ظاہری بسارت سے محروم، فرماتے ہیں بسارت ہو بھئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے، میں نے یہ قلام تیس سال پہلے پڑا ہے، مجھے بڑی خوشی ہے کہ میرے بہت سے سلافہ، میرے بزرگار سب نے اس قلام کو میرے بعد پڑا، آج مجھ سے خاص طور پر ارماعش کی گئی ہے کہ اس قلام کو میں آج پھر ایک بار پڑھنے کی سعادت حاصل کروں، انشاءاللہ اقبال عظیم کا یہ قلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
گوروزائے اقدس کی طلبگار ہے آنکھیں، سچ پوچھو تو خود راہ کی دیوار ہے آنکھیں،
اللہ حرے یہ جرت بے طاب نگاہی کہ بے نور ہے اور طالب دیدار ہے آنکھیں،
سجدے بھی یہ کر لیتی ہیں جب چاہے یہ ہی سے، سجدے بھی یہ کر لیتی ہیں جب چاہے یہ ہی سے،
ارے مجھ سے بھی چھپاتی ہیں پرسارار ہے آنکھیں،
مجھ سے بھی چھپاتی ہیں پرسارار ہے آنکھیں،
سچ پوچھو تو خود راہ کی دیوار ہے آنکھیں،
اللہ حرے یہ جرت بے طاب نگاہی،
اللہ حرے یہ جرت بے طاب نگاہی کہ بے نور ہے اور طالب دیدار ہے آنکھیں،
بے نور ہے اور طالب دیدار ہے آنکھیں،
ہر رات چلی جاتی ہے یہ چپکے سے مدینے،
ہر رات چلی جاتی ہے یہ چپکے سے مدینے،
مجھ سے بھی چھپاتی ہیں بڑی ہشیار ہیں آنکھیں،
مجھ سے بھی چھپاتی ہیں پرسارار ہے آنکھیں،
تیبہ نظر آ جائے تو یہ تاکِ حرم ہے،
تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں،
تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں،
تیبہ نظر آ جائے تو یہ تاکِ حرم ہے،
تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں،
تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں،
یہ نرگس شہلہ ہے گلستانِ حرم کی،
یہ نرگس شہلہ ہے گلستانِ حرم کی،
یہ کس نے کہا نرگس بیمار ہے آنکھیں،
یہ کس نے کہا نرگس بیمار ہے آنکھیں،
گوروزائے اقدس کی طلبگار ہے آنکھیں،
سچ پوچھو تو خود راہ کی دیوار ہے آنکھیں،
تیبہ سے ہوں محروم تو بیکار ہے آنکھیں۔