Skip to main content
Maa Di Shan cover art

Maa Di Shan

by Saleem Sathiya

Album: Nasheeds

Duration: 5:44

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

A Punjabi/Urdu nasheed dedicated to expressing love, respect, and gratitude towards one's mother (Maa Di Shan translates to 'The Glory of Mother'). It emphasizes the high status given to mothers in Islamic tradition.

← Browse
Maa Di Shan

Maa Di Shan

AI-Enriched60%
Genre
Instruments
vocal-only

Story & Cultural Context

A Punjabi/Urdu nasheed dedicated to expressing love, respect, and gratitude towards one's mother (Maa Di Shan translates to 'The Glory of Mother'). It emphasizes the high status given to mothers in…

Titles in Other Languages

EnglishGlory of Mother

Lyrics

ماں کی ممتہ سب سے زیادہ مالک کا روپ ہے
گرمی میں وہ چھاؤں ہے اور سردی میں دھوپ ہے
مجھے خوش دیکھ کر کھل جانے والی ماں
مجھے پریشان دیکھ کر بج جانے والی ماں
تیرے بارے میں بوال سینہ نے کیا خوب کہا
اپنی زندگی میں محبت کی عالی مثال میں نے تب دیکھی
جب سیف چار تھے اور ہم پانچ
تو میری ماں نے کہا کہ مجھے سیف پسند نہیں
سال بھر میں یا کبھی ہفتے میں جمعرات کو زندگی بھر کا سلا ایک فاتحہ مانگتی ہے ماں
ماں کی ممتہ سب سے زیادہ مالک کا روپ ہے
گرمی میں وہ چھاؤں ہے اور سردی میں دھوپ ہے
اے میری ماں تجھے ایک شمہ محبت کہہ دوں
تیرے انداز کو اندازِ کرامت کہہ دوں
تیرے احسان کو اللہ کی رحمت کہہ دوں
تیرے ہر کام کو پیار کی دولت کہہ دوں
تیری ہستی کو میں اللہ کی رحمت کہہ دوں
اور تیری خدمت کو اللہ سے قربت کہہ دوں
تیری خدمت کو میں اللہ سے قربت کہہ دوں
تیرے قدموں میں ہے پاکیزگی جنت کہہ دوں
تیری خدمت کو میں جنت کی زمانت کہہ دوں
تیری ہستی کو میں ایک زندہ صداقت کہہ دوں
اے میری ماں
اے میری ماں
اے میری ماں
اے میری ماں
ماں کی ممتہ سب سے زیادہ مالک کا روپ ہے
گرمی میں وہ چھاؤں ہے اور سردی میں دھوپ ہے
خدائے پاک کے انمول توفے ہیں
ماں اور باپ
وہ باپ جو کڑکتی دھوپ میں گھر کے لیے روٹی کماتا ہے
بھلے تکلیف ہو جتنی مگر روزی پر جاتا ہے
وہ جس اولاد کی خاطر جہاں میں دکھ اٹھاتا ہے
وہی اولاد کیوں آنکھوں میں ان کے آنسو لاتی ہے
وہ خود تو مسکراتی ہے مگر ان کو رولاتی ہے
اگرچہ باپ ہے نیمت تو رحمت کا سمر ہے ماں
اس لیے اپنے ماں باپ کو کھونے سے بہت ڈرتا ہوں
اپنے ماں باپ کو کھونے سے بہت ڈرتا ہوں
میرے اللہ میں رونے سے بہت ڈرتا ہوں
میرے اللہ میں رونے سے بہت ڈرتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو وہ مجھ سے جدا ہو جائیں
ان کے بن اس لیے سونے سے بہت ڈرتا ہوں
کوئی ماں باپ کی طرح نہ محبت دے گا
میں جنیت اس لیے کھونے سے بہت ڈرتا ہوں
میں جنیت اس لیے کھونے سے بہت ڈرتا ہوں
اے ماں
ماں کی ممتہ سب سے زیادہ مالک کا روپ ہے
گرمی میں وہ چھاؤں ہے اور سردی میں دھوپ ہے